🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. أَدْعِيَةُ صَلَاةِ الْجِنَازَةِ
نمازِ جنازہ کی دعاؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1342
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَري، حدثنا الحَكَم بن موسى، حدثنا هِقْل بن زياد، عن الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كَثير، حدثني أبو سَلَمة، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا صلَّى على جنازةٍ قال:"اللهمَّ اغفِرْ لحيِّنا وميِّتنا، وشاهدِنا وغائبِنا، وصغيرِنا وكبيرِنا، وذَكَرِنا وأُنثانا، اللهمَّ من أحييتَه منّا فأحْيِه على الإسلام، ومن تَوفَّيتَه منا فتوفَّه على الإيمان" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه! وله شاهد صحيح على شرط مسلم (1) :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز جنازہ پڑھاتے تو اس میں یوں دعا مانگا کرتے تھے۔ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ ۔ اے اللہ ہمارے زندوں، مردوں حاضر و غائب، چھوٹے، بڑے اور مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما ۔ یا اللہ تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو موت دے اسے ایمان پر موت عطا کر۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث موجود ہے۔ جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1342]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1343
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمر بن يونُس بن القاسم اليَمَامي، حدثنا عكرمة بن عمَّار، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، قال: سألتُ عائشةَ أُمّ المؤمنين: كيف كانت صلاةُ رسول الله ﷺ على الميِّت؟ قالت: كان يقول:"اللهمَّ اغفِرْ لحيِّنا وميِّتِنا، وذَكَرِنا وأُنثانا، وشاهدِنا وغائبِنا وصغيرِنا وكبيرِنا، اللهمَّ من أحيَيْتَه منَّا فأحْيِه على الإسلام، ومَن توفَّيْتَه فتوفَّه على الإيمان" (2) .
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ کیسے پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواباً فرمایا: آپ یوں دعا مانگا کرتے تھے: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1343]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1344
حدثنا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الخَلَّال بمكة، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق الكاتب، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثنا الحسين بن زيد بن علي بن الحسين بن علي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن يزيد بن عبد الله بن رُكَانة بن المطَّلِب قال: كان رسول الله ﷺ إذا قام للجنازةِ ليُصلِّيَ عليها قال:"اللهمَّ عبدُك وابنُ أَمَتِك، احتاجَ إلى رَحمتِك، وأنت غنيٌ عن عذابِه، إن كان مُحسنًا فزِدْ في إحسانِه، وإن كان مُسيئًا فتجاوَزْ عنه" (1) . هذا إسناد صحيح، ويزيد بن رُكَانة وأبوه رُكانةُ بن عبد يزيد صحابيان من بني المطَّلب بن عبد مناف، ولم يُخرجاه.
سیدنا یزید بن عبداللہ بن رکانہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ پڑھتے تو اس میں یوں دعا مانگتے اللَّهُمَّ عَبْدُكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ احْتَاجَ إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَنْتَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِهِ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزَ عَنْهُ۔ اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری بندی کا بیٹا ہے۔ (یا اللہ) یہ تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اس کے عذاب سے بے نیاز ہے، اگر یہ نیک ہے تو اس کی نیکیوں میں اضافہ فرما اور اگر یہ گنہگار ہے تو اس کو معاف فرما۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، اور یزید بن رکانہ اور ان کے والد سیدنا رکانہ بن عبدالمطلب دونوں صحابی ہیں اور عبدالمطلب بن عبدمناف کی اولاد امجاد میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1344]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1345
أخبرنا أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمْعي، حدثني شُرَحْبيل بن سعد قال: حضرتُ عبدَ الله بن عباس صلَّى بنا على جنازة بالأبواء، فكبَّر، ثم اقتَرأَ بأُم القرآن رافعًا صوته بها، ثم صلَّى على النبي ﷺ، ثم قال: اللهمَّ عبدُك وابنُ عبدك، وابنُ أَمتَك، يشهدُ أن لا إله إلّا أنت، وحدَكَ لا شَريك لك، ويشهدُ أنَّ محمدًا عبدُك ورسولُك، أَصبح فقيرًا إلى رحمتك، وأصبحتَ غنيًا عن عذابِه، تَخلَّى من الدنيا وأهلِها، إن كان زاكيًا فزَكِّه، وإن كان مخطئًا فاغفرْ له، اللهمَّ لا تَحرِمنا أجرَه، ولا تُضلَّنا بعده، ثم كبَّر ثلاثَ تكبيرات، ثم انصرَفَ، فقال: يا أيها الناس، إنِّي لم أقرأ علنًا إلّا لتَعْلَموا أنها السُّنة (1) . لم يَحتجَّ الشيخان بشُرَحْبيل بن سعد، وهو من تابِعِي أهل المدينة، وإنما أخرجتُ هذا الحديث شاهدًا للأحاديث التي قدَّمنا، فإنها مختصرةٌ مجمَلة، و
هذا حديث مفسَّر.
سیدنا شرحبیل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ابواء میں ہمیں نماز جنازہ پڑھائی۔ انہوں نے تکبیر کہی پھر بلند آواز سے سورہ فاتحہ پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا پھر یوں دعا مانگی اللَّهُمَّ عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَصْبَحَ فَقِيرًا إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَصْبَحْتَ غَنِيًّا عَنْ عَذَابِهِ، يُخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا، إِنْ كَانَ زَاكِيًا فَزَكِّهِ، وَإِنْ كَانَ مُخْطِئًا فَاغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ اے اللہ یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے اور تیری بندی کا بیٹا ہے، یہ گواہی دیتا ہے کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو تنہا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ گواہی دیتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں، یہ تیری رحمت کا محتاج ہے۔ تو اس کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! تو ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھ اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔ پھر انہوں نے تین تکبیریں کہیں، پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: اے لوگو! میں نے بلند آواز سے اس لیے پڑھا ہے تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے شرحبیل بن سعد کی روایات نقل نہیں کیں اور یہ مدنی تابعین میں سے ہیں اور میں نے اس حدیث کو سابقہ احادیث کے شاہد کے طور پر نقل کیا ہے کیونکہ گزشتہ احادیث مختصر تھیں اور یہ تفصیلی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1345]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1346
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن مَندَهْ، حدثنا بكر بن بَكَّار. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس. وحدثنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر؛ قالوا: حدثنا شُعبة، عن إبراهيم الهَجَري، عن عبد الله بن أبي أوفَى، قال: تُوفِّيتْ بنتٌ له، فتَبِعها على بغلةٍ يمشي خلفَ الجنازة، ونساءٌ يَرْثِينَها، فقال: يَرثِينَ أو لا يَرثينَ، فإنَّ رسول الله له نهى عن المَرَاثي، ولْتُفِضْ إحداكنَّ من عَبْرَتِها ما شاءَت. ثم صلَّى عليها، فكبَّر عليها أربعًا، ثم قام بعد الرابعة قَدْرَ ما بينَ التكبيرتين يستغفرُ لها ويدعو، وقال: كان رسولُ الله ﷺ يَصنَعُ هكذا (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وإبراهيم بن مُسْلم الهَجَري لم يُنقَم عليه بحُجَّة.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کی بیٹی کا انتقال ہو گیا، وہ ایک خچر پر سوار جنازے کے پیچھے آ رہے تھے اور عورتیں مرثیے پڑھ رہی تھیں، انہوں نے کہا: یہ عورتیں مرثیے پڑھیں یا نہ پڑھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیے پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ البتہ آنسو جتنے چاہیں بہا سکتی ہیں۔ پھر اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں پڑھیں۔ پھر آپ چوتھی تکبیر کے بعد اتنی دیر کھڑے میت کے لیے دعا و استغفار کرتے رہے جتنی دیر دو تکبیروں کے درمیان کا دورانیہ تھا اور انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور ابراہیم بن مسلم ہجری پر کوئی مدلل جرح ثابت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1346]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1347
أخبرنا إسماعيل بن أحمد التاجر، حدثنا محمد بن الحسين العَسْقَلاني، حدثنا حَرْمَلة بن يحيى، حدثنا ابن وَهْب أخبرني يونس، عن ابن شِهاب، قال: أخبرني أبو أُمامة بن سَهْل بن حُنَيف - وكان من كُبَراء الأنصار وعلمائِهم وأبناءِ الذين شهدوا بدرًا مع رسول الله ﷺ أخبره رجالٌ من أصحاب رسول الله ﷺ في الصلاة على الجنازة: أن يُكبِّر الإمام، ثم يُصلِّيَ على النبي ﷺ ويُخلِصَ الصلاةَ في التكبيرات الثلاث، ثم يُسلِّمَ تسليمًا خفيًا حين ينصرف، والسُّنة أن يفعل مَن وراءَه مثلَ ما فعل إمامُه. قال الزُّهري: حدثني بذلك أبو أمامة وابنُ المسيّب يَسمَع، فلم يُنكِر ذلك عليه. قال ابن شهاب: فذكرتُ الذي أخبرني أبو أُمامة من السُّنة في الصلاة على الميت لمحمد بن سُوَيد، قال: وأنا سمعتُ الضَّحَّاك بن قيس يحدِّث عن حَبِيب بن مَسْلَمة في صلاةٍ صلّاها على الميت مثلَ الذي حدَّثَنا أبو أمامة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وليس في التَّسليمة الواحدة على الجنازة أصحُّ منه. وشاهده حديث أبي العَنْبَس سعيدِ بن كَثِير:
سیدنا ابوعامر بن سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ انصار کے علماء اور معزز لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بعض نے نماز جنازہ کے متعلق بتایا کہ امام تکبیر کہے گا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے گا اور تین تکبیرات پر نماز پوری کرے گا اور آخر میں مختصر سلام پھیرے گا اور نماز کے بعد سنت وہ ہے جو ابوامامہ نے عمل کیا۔ ٭٭ زہری کہتے ہیں: یہ حدیث مجھے ابوامامہ نے بتائی اور ابن مسیب نے اس کو سنا، لیکن اس پر انکار نہیں کیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ابوامامہ نے نماز جنازہ کا جو طریقہ مجھے بتایا تھا، میں نے وہ محمد بن سوید کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے ضحاک بن قیس کو حبیب بن مسلمہ کے حوالے سے ایک نماز جنازہ کے دوران ابوامامہ جیسی حدیث بیان کرتے سنا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور نماز جنازہ میں ایک سلام کے متعلق اس سے زیادہ صحیح حدیث کوئی نہیں ہے۔ ابوعنبس سعید بن کثیر کی سند کے ہمراہ مذکورہ حدیث کی شاہد حدیث موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1347]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1348
حدَّثَناه أبو بكر بن أبي دارِم، الحافظ، حدثنا عبد الله بن غنَّام بن حفص بن غِيَاث حدثني أبي، عن أبيه، عن أبي العَنْبَس، عن أبيه، عن أبي هريرة: أن رسول الله ﷺ صلى على جنازةٍ، فكبر عليها أربعًا، وسلَّم تسليمةً (1) . التّسليمةُ الواحدة على الجنازة قد صحَّت الروايةُ فيه عن علي بن أبي طالب، وعبد الله بن عمر، وعبد الله بن عباس، وجابر بن عبد الله، وعبد الله بن أبي أوْفَى، وأبي هريرةَ: أنهم كانوا يُسلمون على الجنازة تسليمةً واحدة (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھائی، اس میں چار تکبیریں کہیں اور ایک سلام۔ ٭٭ نماز جنازہ میں ایک سلام کے متعلق سیدنا علی بن ابی طالب عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن عباس، جابر بن عبداللہ بن ابی اوفیٰ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے یہ صحیح روایت منقول ہے کہ یہ لوگ نماز جنازہ میں ایک سلام پھیرا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1348]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں