المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ
نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1340
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن سَعْد (1) بن إبراهيم، عن طَلْحة بن عبد الله بن عَوْف قال: صلَّيتُ خلفَ ابن عباس على جنازةٍ، فسمعتُه يقرأ بفاتحة الكتاب، فلما انصَرَفَ أخذتُ بيدِه فسألتُه فقلت: تقرأُ؟ فقال: نعم، إنَّه حقٌّ وسُنّة (2) . وله شاهدٌ مفسَّر من حديث إبراهيم بن أبي يحيى:
سیدنا طلحہ بن عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک نماز جنازہ پڑھی تو میں نے ان کو سورہ فاتحہ پڑھتے سنا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر ان سے پوچھا: کیا آپ قراءت کرتے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: جی ہاں۔ یہ حق ہے اور یہ ” سنت “ ہے۔ ابراہیم بن ابویحیی کی سند کے ہمراہ اس حدیث کی ایک مفسر حدیث شاہد موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1340]
حدیث نمبر: 1341
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، حدثنا إبراهيم بن أبي يحيى، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابرٍ قال: كان رسول الله ﷺ يُكبِّر على جنائزِنا أربعًا، ويقرأُ بفاتحة الكتاب في التكبيرة الأُولى (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ میں چار تکبیریں پڑھا کرتے تھے، ان میں سے پہلی تکبیر کے بعد سورہ فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1341]