🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. فَضِيلَةُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ
ذکرِ الٰہی میں آواز بلند کرنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1377
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الحميد أبو جعفر الحارثي، حدثنا إسحاق بن منصور السَّلُولي، حدثنا محمد بن مُسلِم الطائفي، عن عمرو بن دينار، عن جابر: أنَّ رجلًا كان يَرفَع صوتَه بالذِّكر، فقال رجل: لو أنَّ هذا خَفَضَ من صوتِه، فقال رسول الله ﷺ:"فإنَّه أوّاهٌ". قال: فمات، فرأى رجلٌ نارًا في قبره، فأتاه، فإذا رسولُ الله ﷺ فيه وهو يقول:"هَلُمُّوا صاحِبَكم"، فإذا هو الرجلُ الذي كان يَرفَع صوته بالذِّكْر (2) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بلند آواز سے ذکر کر رہا تھا، کسی نے کہا: کاش یہ اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کچھ نہ کہو، یہ تو اللہ کے حضور بہت آہ و زاری کرنے والا (اوّاہ) ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص فوت ہو گیا، ایک آدمی نے اس کی قبر میں «نارًا» (روشنی) دیکھی، وہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر موجود ہیں اور فرما رہے ہیں: اپنے ساتھی کو میرے قریب کرو، دیکھا تو وہ وہی شخص تھا جو بلند آواز سے ذکر کیا کرتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1377]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن مسلم الطائفي.» [ترقيم الرساله 1377] [ترقيم الشركة 1365]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1378
أخبرَناه علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا إبراهيم بن نَصْر، حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري، حدثنا محمد بن مُسلِم الطائفي، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله قال: رأيتُ نارًا في المقابر، فأَتيتُهم فإذا رسولُ الله ﷺ في القبر وهو يقول:"ناوِلُوني صاحِبَكم" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسنادٍ مُعضَل:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے قبرستان میں آگ دیکھی، میں وہاں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے: اپنے ساتھی کو میرے حوالے کرو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک معضل سند کے ساتھ شاہد حدیث بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1378]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كالذي قبله.» [ترقيم الرساله 1378] [ترقيم الشركة 1366]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1379
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني، حدثني أبي، حدثني أبي (1) ، حدثنا وكيع، عن شعبة. وأخبرني الحسين بن علي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بُنْدار، حدثنا محمد، حدثنا شعبة، عن أبي يونس - وهو حاتم بن أبي صَغِيرة - قال: سمعتُ رجلًا كان بمكة، وكان رُوميًّا - وفي حديث شعبة: اسمه: وقَّاص - يحدِّث عن أبي ذرٍّ، قال: كان رجلٌ يطوف بالبيت وهو يقول في دُعائِه: أَوَّهُ أَوَّهُ، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّهُ لأَوّاه"، قال أبو ذر: فخرجتُ ذات ليلةٍ فإذا النبيُّ ﷺ في المقابر يَدفِنُ ذلك الرجلَ ومعه المِصْباح (2) .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا اور اپنی دعا میں «اوّه اوّه» (آہ و زاری) کر رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ بہت آہ و زاری کرنے والا (اوّاہ) ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات نکلا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں چراغ لیے اس شخص کو دفن فرما رہے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1379]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الرومي الذي يحدِّث عن أبي ذر، ولا ندري ما وجه وصف المصنِّف له بالإعضال إلا إن أراد هذا الإبهام! محمد بن إسحاق: هو ابن خزيمة، وبندار: هو محمد بن بشار، وشيخه محمد: هو ابن جعفر غندر.» [ترقيم الرساله 1379] [ترقيم الشركة 1367]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں