🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. تَرْسِيلُ الطَّعَامِ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ
میت کے گھر والوں کے لیے کھانا بھیجنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1393
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا جعفر بن خالد بن سارةَ المخزومي، أخبرني أبي - وكان صديقًا لعبد الله بن جعفر - أنه سَمِعَ عبد الله بن جعفر قال: لما نُعيَ جعفرٌ، قال النبيُّ ﷺ:"اصنَعوا لآلِ جعفرٍ طعامًا، فقد أتاهم أمرٌ يَشغَلُهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وجعفر بن خالد بن سارةَ من أكابر مشايخ قريش، وهو كما قال شعبة: اكتُبوا عن الأشراف فإنهم لا يَكذِبون، وقد رَوَى غيرَ هذا الحديث مفسَّرًا:
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جعفر کے بچوں کے لیے کھانا پکاؤ کیونکہ ان کو ایسا مسئلہ پیش آ گیا ہے جس نے ان کو مصروف کر رکھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور جعفر بن خالد بن سارہ قریش کے اکابر مشائخ میں سے ہیں۔ اور ان کے متعلق شعبہ کا قول ہے: ان اشراف سے حدیث لکھ لیا کرو کیونکہ یہ جھوٹ نہیں بولتے۔ اس کے علاوہ ایک اور تفصیلی حدیث بھی موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے۔) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1393]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1394
أخبرَناه أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم الحَنْظَلي ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، حدثنا أبو عاصم، أخبرني جعفر بن خالد بن سارة - وقد حدثنا ابنُ جُرَيج عنه - قال: حدثني أبي، أنَّ عبد الله بن جعفر قال: لو رأَيتَني وقُتَمَ وعُبيدَ الله بن العباس نلعبُ، إذ مَرَّ رسولُ الله ﷺ على دابةٍ فقال:"احمِلوا هذا إليَّ" فجَعَلَني أمامه، ثم قال لقُثَمَ:"احملوا هذا إليَّ" فَجَعَلَه وراءَه، ما استَحيَى من عمِّه العباس أن حَمَلَ قُثَمَ وتركَ عُبيدَ الله، ثم مَسَحَ برأسي ثلاثًا، فلما مَسَحَ قال:"اللهمَّ اخلُفْ جعفرًا في ولدِه" قلت لعبد الله بن جعفر: ما فَعَلَ قُثَمُ؟ قال: استُشهِد، قلتُ لعبد الله: الله ورسولُه كان أعلمَ بخِيَرِه، قال: أَجل (1) .
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قثم اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کھیل رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہمارے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو مجھے پکڑا دو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا پھر قثم کے متعلق کہا: اس کو بھی مجھے پکڑاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پیچھے بٹھا لیا، آپ کو اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف سے اس بات میں کوئی خدشہ نہیں تھا کہ قثم کو سوار کر لیا ہے اور عبیداللہ کو چھوڑ دیا ہے۔ پھر آپ نے میرے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیرا اور ہر مرتبہ ہاتھ پھیرتے ہوئے، آپ نے یہ دعا دی۔ یا اللہ! جعفر کی اولاد میں اس کا نائب پیدا فرما۔ (جریج کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن جعفر سے پوچھا: قثم کا کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: شہید ہو گئے۔ میں نے عبداللہ سے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1394]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1395
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، أنَّ رَوْح بن عُبادةَ حدثهم، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني جعفر بن خالد، عن أبيه، عن عبد الله بن جعفرٍ، قال: مَسَح رسولُ الله ﷺ بيدِه على رأسي - قال: أظنُّه قال: ثلاثًا - كلما مَسَحَ قال:"اللهمَّ اخلُفْ جعفرًا في ولدِه" (2) . قد أتى جعفر بنُ خالد بسُنَّتين عزيزتين، إحداهما: مَسْحُ رأس اليتيم، والأخرى: تفقُّد أهل المُصيبة بما يَتقوَّتون ليلتَهم، وفَّقنا الله لاستعمالِه عنه.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا۔ خالد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ عبداللہ نے کہا تھا: تین مرتبہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا) جب آپ نے ہاتھ پھیرا تو یہ دعا مانگی اے اللہ! جعفر کی اولاد میں اس کا نائب پیدا فرما۔ جعفر بن خالد کو دو پیاری چیزیں عطا ہوئیں۔ (1) یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا۔ (2) مصیبت کے عالم میں وہ چیز بھی میسر نہ آنا جس کو کھا کر وہ اپنی رات گزار سکے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1395]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں