🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. زِيَارَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - قَبْرَ أُمِّهِ
رسولُ اللہ ﷺ کا اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1405
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حدثنا أحمد بن عِمْران الأخْنَسي، حدثنا يحيى بن يَمَان، عن سفيان، عن علقمة بن مَرْثَد، عن سليمان بن بُرَيدة، عن أبيه قال: زار النبيُّ ﷺ قبرَ أُمِّه في ألفِ مُقنَّعٍ، فلم يُرَ باكيًا أكثرَ من يومِئذٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہزار افراد کی معیت میں اپنی والدہ محترمہ کی قبر مبارک کی زیارت کی، اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ کو اتنا زیادہ روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1405]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1406
حدثنا أبو عبد الله محمدُ بنُ يعقوب الحافظ وأبو الفَضْل الحسن بن عقوب العَدْل، قالا: حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفَرَّاء، أخبرنا يعلى بن عُبَيد، حدثنا أبو مُنَيْن يَزيدُ بن كَيْسان، عن أبي حازم، عن أبي هريرةَ، قال: زارَ رسولُ الله ﷺ قبر أُمِّه فبكى وأَبكَى مَن حولَه، ثم قال:"استأذنتُ ربِّي أن أَزورَ قبرَها فأذِنَ لي، واستأذنتُه أن أستغفِرَ لها فلم يُؤذَن لي، فزُورُوا القبورَ فإنها تُذكِّر الموت" (1) . وهذا الحديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ رو پڑے۔ (اور آپ کے رونے نے) آپ کے اردگرد (سب لوگوں) کو رلا دیا۔ پھر فرمایا: میں نے اپنے ربب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی۔ تو اللہ نے مجھے اجازت دے دی اور میں نے ان کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی۔ چنانچہ تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1406]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1407
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا أبو شُعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا زهير، حدثنا زُبَيد، عن مُحارِب بن دِثَار، عن ابن بُريدةَ، عن أبيه قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ قريبًا من ألفِ راكبٍ، فنزل بنا فصلَّى بنا ركعتين، ثم أقبَلَ علينا بوَجهِه وعيناه تَذْرِفان، فقام إليه عمر ففدَّاه بالأم والأب يقول: ما لك يا رسول الله؟ قال:"إنِّي استأذنتُ ربِّي ﷿ في الاستغفار لأُمِّي، فلم يأذَنْ لي، فدَمَعَ عينايَ رحمةً لها، واستأذنتُ ربِّي في زيارتها فأَذِنَ لي، وإنِّي كنتُ قد نَهيتُكم عن زيارةِ القبور فزُورُوها، ولْيزِدْكُم زيارتُها خيرًا" (1) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تقریباً ایک ہزار سوار تھے، ایک جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا اور ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف اٹھ کر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ر سے اپنی والدہ کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی، لیکن مجھے اجازت نہ ملی تو والدہ کی محبت میں میری آنکھو سے آنسو نکل آئے۔ میں نے ان کی زیارت کے لیے اجازت مانگی، تو مجھے اجازت مل گئی۔ میں تمہیں زیارت قبور سے منع کرتا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔ اور ان کی زیارت سے تمہارے اندر اعال صالح کا جذبہ بڑھے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1407]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1408
حدثنا أبو بكر أحمد (2) بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى معاذُ بن المثنَّى، حدثنا محمد بن مِنْهالٍ الضَّرير، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا بِسْطام بن مُسلِم، عن أبي التَّيَّاح يزيد بن حُمَيد، عن عبد الله بن أبي مُلَيكةَ: أنَّ عائشةَ أقبلَتْ ذات يومٍ من المقابر، فقلتُ لها: يا أُمَّ المؤمنين، من أين أقبلتِ؟ قالت: مِن قبرِ أخي عبدِ الرحمن بن أبي بكر، فقلتُ لها: أليس كان رسولُ الله ﷺ نَهَى عن زيارة القبور؟ قالت: نعم، كان نَهَى ثم أمَر بزيارتها (1) .
سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قبرستان سے آ رہی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا: اے ام المومنین! آپ کہاں سے آ رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اپنے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر کی قبر سے۔ میں نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور سے منع نہیں کیا؟ انہوں نے جواباً کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے منع کیا کرتے تھے۔ لیکن بعد میں آپ نے اجازت دے دی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1408]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1409
حدثنا أبو عليٍّ الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا عَبْدانُ الأَهوازيُّ، حدثنا بِشْر بن معاذ العَقَدي، حدثنا عامر بن يِسَاف، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان، عن يحيى بن عبَّاد، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"كنتُ نَهيتُكم عن زيارةِ القبور، ألا فزُورُوها، فإنه يُرِقُّ القلبَ، ويُدمِعُ العينَ، ويُذكِّر الآخرة، ولا تقولوا هُجْرًا" (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہی زیارت قبور سے روکا کرتا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دل کو نرم کرتی ہے اور آنکھوں کو رلاتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1409]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1410
أخبرَناه أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حدثنا سعيد بن عثمان الأهوازي، حدثنا الرَّبيع بن يحيى، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثني يحيى بن عبد الله (1) التَّيمي، عن عمرو بن عامر الأنصاري، عن أنس بن مالكٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"إنِّي كنتُ نَهيتُكم عن زيارة القُبور، فمن شاءَ أن يَزور قبرًا فَلْيَزُرْه، فإنه يُرِقُ القلبَ، ويُدمِعُ العينَ، ويُذكِّر الآخرة" (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں زیارت قبور سے منع کیا کرتا تھا (لیکن اب) جو قبر کی زیارت کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے۔ کیونکہ یہ دل کو نرم کرتی ہے۔ آنکھوں کو رلاتی ہے اور آخرت یاد دلاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1410]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں