🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. زيارة النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - قبر أمه
رسولُ اللہ ﷺ کا اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1407
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا أبو شُعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا زهير، حدثنا زُبَيد، عن مُحارِب بن دِثَار، عن ابن بُريدةَ، عن أبيه قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ قريبًا من ألفِ راكبٍ، فنزل بنا فصلَّى بنا ركعتين، ثم أقبَلَ علينا بوَجهِه وعيناه تَذْرِفان، فقام إليه عمر ففدَّاه بالأم والأب يقول: ما لك يا رسول الله؟ قال:"إنِّي استأذنتُ ربِّي ﷿ في الاستغفار لأُمِّي، فلم يأذَنْ لي، فدَمَعَ عينايَ رحمةً لها، واستأذنتُ ربِّي في زيارتها فأَذِنَ لي، وإنِّي كنتُ قد نَهيتُكم عن زيارةِ القبور فزُورُوها، ولْيزِدْكُم زيارتُها خيرًا" (1) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تقریباً ایک ہزار سوار تھے، ایک جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا اور ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف اٹھ کر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ر سے اپنی والدہ کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی، لیکن مجھے اجازت نہ ملی تو والدہ کی محبت میں میری آنکھو سے آنسو نکل آئے۔ میں نے ان کی زیارت کے لیے اجازت مانگی، تو مجھے اجازت مل گئی۔ میں تمہیں زیارت قبور سے منع کرتا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔ اور ان کی زیارت سے تمہارے اندر اعال صالح کا جذبہ بڑھے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1407]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1407 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. زهير: هو ابن معاوية أبو خيثمة، وزبيد: هو ابن الحارث اليامي، وابن بُريدة: هو عبد الله، صرَّح باسمه ضرار بن مرة عن محارب بن دثار، وهو صنيع المزي في "تحفة الأشراف" (2001)، وقد وهم الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" (2225) فجعله في ترجمة سليمان بن بريدة، والله أعلم. أما أصحاب ابن بريدة فبعضهم قال: عبد الله، وبعضهم قال: سليمان، وبعضهم قال: ابن بريدة، كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ زبید بن الحارث اليامی اور ابن بریدہ (عبداللہ) اس کے راوی ہیں۔ حافظ ابن حجر سے سلیمان بن بریدہ کے نام میں وہم ہوا ہے۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا مسلم (977) (106)، والنسائي (5143)، وابن حبان (5390) من طرق عن أبي خيثمة زهير بن معاوية، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (977/106)، نسائی اور ابن حبان (5390) نے زہیر بن معاویہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه تامًّا ومقطّعًا أحمد 38/ (22958)، ومسلم (977) (106) و (1975) (37) و (1999) (63)، والنسائي (2170) و (5142)، وابن حبان (5391) و (5400) من طريق أبي سنان ضرار بن مرة، ومسلم (1999) (65)، وأبو داود (3235) و (3698) من طريق معرِّف بن واصل، كلاهما عن محارب بن دثار، به. وقال ضرار بن مرة في حديثه: عبد الله بن بريدة، وقال معرف: ابن بريدة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم، ابوداؤد (3235) اور ابن حبان نے ضرار بن مرہ اور معرِّف بن واصل کے طریقوں سے محارب بن دثار کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه دون قصة زيارة قبر أمه ﷺ أحمد (23005)، ومسلم (977) (106) من طريق عطاء الخراساني، وأحمد (23015) من طريق سلمة بن كهيل، والنسائي (2171) من طريق المغيرة بن سبيع، ثلاثتهم عن عبد الله بن بريدة، به.
📖 حوالہ / مصدر: بغیر قصے کے اسے احمد اور مسلم نے عطاء الخراسانی، اور نسائی (2171) نے مغیرہ بن سبیع کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك النسائي (5141) من طريق الزبير بن عدي، عن ابن بريدة، عن أبيه. ذكره هكذا ولم يصرح باسمه، لكن خرجه المزي في "التحفة" في ترجمة عبد الله بن بريدة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (5141) نے زبیر بن عدی کے طریق سے مروایت کیا ہے، جس میں نام کی صراحت نہیں مگر یہ عبداللہ بن بریدہ ہی ہیں۔
وأخرجه تامًّا ومقطعًا أحمد (23016)، ومسلم بإثر (977) (106) وبإثر (1975) (37) وبرقم (1999) (64) من طريق علقمة بن مرثد، وأحمد (23052) من طريق أبي جناب يحيى بن حية الكلبي، كلاهما عن سليمان بن بريدة، عن أبيه. وقد صرَّح علقمة في بعض مواضع مسلم وكذلك أبو جناب باسم سليمان بن بريدة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم اور ابن حبان نے علقمہ بن مرثد اور ابوجناب الکلبی کے طریقوں سے سلیمان بن بریدہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1405).
🔍 فنی نکتہ: نمبر (1405) ملاحظہ فرمائیں۔