🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

60. كَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَزُورُ قَبْرَ عَمِّهَا حَمْزَةَ كُلَّ جُمُعَةٍ، وَسُنِّيَّةُ زَيَارَةِ الْقُبُورِ
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر جمعہ اپنے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرتی تھیں، اور قبروں کی زیارت کی سنت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1412
حدثنا أبو حُمَيد أحمد بن محمد بن حامد العَدْل بالطَّابَران، حدثنا تَمِيم بن محمد، حدثنا أبو مُصعَب الزُّهري، حدثني محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، أخبرني سليمان بن داود، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن علي بن الحسين، عن أبيه: أنَّ فاطمة بنت النبي ﷺ كانت تَزورُ قبرَ عمِّها حمزةَ كلَّ جُمعةٍ، فتصلِّي وتبكي عنده (2) . هذا الحديث رواتُه كلُّهم ثقات. وقد استَقصَيتُ في الحثِّ على زيارة القُبور تحرِّيًا للمشاركة في الترغيب، ولِيعلَمَ الشَّحيحُ بدِينِه أنها سُنةٌ مسنونة. وصلى الله على محمدٍ وآله أجمعين.
سیدنا علی بن حسین اپنے والد (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر جمعہ کو اپنے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر جایا کرتی تھیں، وہاں نماز پڑھتیں اور روتی تھیں۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ میں نے قبروں کی زیارت کی ترغیب میں بھرپور کوشش کی ہے تاکہ اس میں شرکت کا ثواب حاصل ہو اور اپنے دین کے معاملے میں بخل کرنے والا شخص جان لے کہ یہ ایک مسنون سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تمام آل پر رحمتیں نازل فرمائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1412]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، سليمان بن داود: هو ابن قيس الفرّاء، ذكره الذهبي في "الميزان" ونقل عن الأزدي قوله: تُكلِّم فيه. وقد اختلف في هذا الإسناد على ابن أبي فديك؛ فرواه أبو مصعب الزهري هنا عنه عن سليمان بن داود عن جعفر بن محمد بإسناده إلى الحسين بن علي بن أبي طالب، ...» [ترقيم الرساله 1412] [ترقيم الشركة 1400]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1413
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا حَرْب بن ميمون، عن النَّضْر بن أنس، عن أنسٍ، قال: كنتُ قاعدًا مع النبي ﷺ فمُرَّت بجنازةٍ (1) فقال:"ما هذه الجنازةُ؟" قالوا: جنازةُ فلانٍ الفُلاني، كان يحبُّ اللهَ ورسولَه، ويَعمَلُ بطاعة الله، ويَسعَى فيها، فقال:"وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ"، ومرَّت بجنازةٍ أخرى، فقال:"ما هذه الجنازةُ؟" قالوا: جنازةُ فلانٍ الفُلاني، كان يُبغِضُ اللهَ ورسولَه، ويَعملُ بمعصيةِ الله، ويسعى فيها، فقال:"وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ"، قالوا: يا رسولَ الله، قولك في الجنازة والثناءِ عليها، أُثنيَ على الأَوّل خيرٌ وعلى الآخَرِ شَرٌّ، فقلتَ فيها:"وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ"! فقال:"نعم يا أبا بكر، إنَّ للهِ ملائكةً تَنطِقُ على أَلسنةِ بني آدمَ بما في المرءِ من الخيرِ والشَّر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ جنازہ کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں شخص کا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا تھا، اللہ کی اطاعت والے کام کرتا تھا اور اسی کی کوشش میں رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ پھر ایک اور جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ فلاں شخص کا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغض رکھتا تھا، اللہ کی نافرمانی والے کام کرتا تھا اور اسی کی کوشش میں رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس جنازے کے بارے میں فرمان اور اس کی تعریف؛ پہلے کی تعریف خیر کے ساتھ ہوئی اور دوسرے کی برائی کے ساتھ، مگر آپ نے دونوں کے لیے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اے ابوبکر! اللہ کے کچھ ایسے فرشتے ہیں جو بنی آدم کی زبانوں پر اس شخص کے خیر یا شر کے بارے میں کلام کرتے ہیں (جو اس میں موجود ہوتا ہے)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1413]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إن شاء الله، حرب بن ميمون - وهو الأكبر الأنصاري أبو الخطاب - أخرج له مسلم متابعة، ووثقه علي بن المديني وعمرو بن علي الفلاس والخطيب، وقال ابن معين: صالح، وقال الساجي: صدوق، وليّنه أبو زرعة، وباقي رجاله ثقات. يونس بن محمد: هو المؤدِّب.» [ترقيم الرساله 1413] [ترقيم الشركة 1401]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں