المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
69. التَّكْبِيرُ عَلَى الْجَنَائِزِ أَرْبَعًا
نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1439
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْدٍ الأنطاكي، حدثنا الهَيثَم بن جَمِيل، حدثنا مُبارَك بن فَضَالة، عن الحسن، عن أنس قال: كبَّرتِ الملائكةُ على آدمَ أربعًا، وكبَّر أبو بكرٍ على النبيِّ ﷺ أربعًا، وكبَّر عمرُ على أبي بكرٍ أربعًا، وكبَّر صُهيبٌ على عمرَ أربعًا، وكبَّر الحسنُ بن عليٍّ على عليٍّ أربعًا، وكبَّر الحسينُ على الحسنِ أربعًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والمُبارَك بن فَضَالة من الزُّهد والعلم بحيثُ لا يُجرَح مثلُه، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجاه لِسوءِ حفظِه. ولهذا الحديث شاهد:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والمُبارَك بن فَضَالة من الزُّهد والعلم بحيثُ لا يُجرَح مثلُه، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجاه لِسوءِ حفظِه. ولهذا الحديث شاهد:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے علی رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے حسن رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مبارک بن فضالہ زہد و علم کے اس مقام پر ہیں کہ ان جیسے راوی پر جرح نہیں کی جاتی، البتہ شیخین نے ان کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ان کی روایات نہیں لیں۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1439]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مبارک بن فضالہ زہد و علم کے اس مقام پر ہیں کہ ان جیسے راوی پر جرح نہیں کی جاتی، البتہ شیخین نے ان کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ان کی روایات نہیں لیں۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1439]
حدیث نمبر: 1440
أخبرَناه أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا خُنَيس بن بكر بن خُنَيس، حدثنا الفُرات بن السائب الجَزَري، عن مَيمُون بن مِهْران، عن عبد الله بن عباسٍ قال: آخرُ ما كبَّر رسولُ الله ﷺ على الجنائزِ أربعًا، وكبَّر عمرُ على أبي بكرٍ أربعًا، وكبَّر عبدُ الله بن عمر على عمر أربعًا، وكبَّر الحسنُ بن عليٍّ على عليٍّ أربعًا، وكبَّر الحسينُ بن عليٍّ على الحسنِ أربعًا، وكبَّرتِ الملائكةُ على آدمَ أربعًا (1) . لستُ ممن يَخفَى عليه أنَّ الفُرات بن السائب ليس من شَرْط هذا الكتاب، وإنما أخرجتُه شاهدًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری مرتبہ جنازے پر جو تکبیریں کہیں وہ چار تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمر رضی اللہ عنہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے علی رضی اللہ عنہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے حسن رضی اللہ عنہ پر چار تکبیریں کہیں، اور فرشتوں نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں۔
مجھ پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ فرات بن سائب اس کتاب کی شرط پر پورا نہیں اترتے، میں نے اسے صرف شاہد کے طور پر پیش کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1440]
مجھ پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ فرات بن سائب اس کتاب کی شرط پر پورا نہیں اترتے، میں نے اسے صرف شاہد کے طور پر پیش کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1440]