🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. النَّهْيُ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ
مردوں (مرحومین) کو گالی دینے سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1435
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجية، حدثنا رجاء بن محمد العُذْري، حدثنا عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، حدثنا شعبة، عن مِسعَر، عن زياد بن عِلَاقة، عن عمِّه: أنَّ المغيرة بن شعبة سبَّ عليَّ بن أبي طالب، فقام إليه زيدُ بنُ أرقمَ، فقال: يا مُغيرةُ، ألم تعلم أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن سبِّ الأموات، فلِمَ تسُبُّ عليًّا وقد مات؟ (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على حديث الأعمش عن مجاهد عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"لا تَسبُّوا الأمواتَ، فإنَّهم قد أَفضَوْا إلى ما قدَّموا" (1) .
زیاد بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے مغیرہ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے؟ تو پھر آپ علی کو کیوں برا بھلا کہہ رہے ہیں جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں؟
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش کی مجاہد سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے بھیجے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1435]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل عمرو بن محمد بن أبي رزين، وباقي رجاله ثقات. مسعر: هو ابن كدام، وعم زياد بن علاقة: هو قطبة بن مالك، وله صحبة.» [ترقيم الرساله 1435] [ترقيم الشركة 1423]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1436
أخبرنا علي بن أحمد بن قُرْقُوب التَّمَّار بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو اليَمَان، أخبرني شعيب بن أبي حمزة، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين، حدثني نَوفَلُ بن مُسَاحِق، عن سعيد بن زيد، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تُؤذُوا مسلمًا بشَتْمِ كافر" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو کسی کافر (مردے) کو گالی دے کر تکلیف نہ پہنچاؤ۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1436]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إبراهيم بن الحسين: هو ابن ديزيل، وأبو اليمان: هو الحكم بن نافع.» [ترقيم الرساله 1436] [ترقيم الشركة 1424]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1437
أخبرنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب [حدثنا معاوية بن هشام، عن عِمْران بن أنس المكّي، عن عطاءٍ، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ] (3) :"اذكُرُوا مَحاسِنَ موتاكُم، وكُفُّوا عن مَساوئِهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهذه الأحاديث وجدتُها في الباب بعد نقل كتاب الجنائز، وسبيلُها أن تكون مخرَّجةً في مواضعها قبلَ هذا.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کیا کرو اور ان کی برائیوں سے زبان کو روکے رکھو۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یہ وہ احادیث ہیں جو مجھے کتاب الجنائز کی نقل کے بعد اس باب میں ملی ہیں، اور ان کا تقاضا یہ تھا کہ انہیں ان کے اصل مقامات پر پہلے ہی درج کر دیا جاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1437]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1437] [ترقيم الشركة 1425]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1438
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العدل، حدثنا أبو مُسلِم المسيَّبُ بن زُهير البغدادي، حدثنا أبو بكرٍ وعثمانُ ابنا أبي شَيْبة، قالا: حدثنا سفيان بن عُيينةَ، عن عمرو بن دِينار، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تُنجِّسوا موتاكُم، فإنَّ المُسلِمَ لا يَنجَسُ حَيًّا أو مَيْتًا" (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو ناپاک نہ سمجھو، کیونکہ مسلمان زندگی اور موت دونوں حالتوں میں ناپاک نہیں ہوتا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1438]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا، رجاله ثقات عن آخرهم غير المسيب بن زهير فلم يؤثر فيه جرح أو تعديل، لكن روى عنه جمع من حفّاظ نيسابور، وهو في الغالب متابع في رواياته، فهو حسن الحديث إن شاء الله، إلا أنه قد خولف في رفع هذا الخبر، خالفه بقيّ بن مخلد - وكفاك به ...» [ترقيم الرساله 1438] [ترقيم الشركة 1426]

الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں