المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كِتَابُ الزَّكَاةِ
زکوٰۃ کے احکام کی کتاب۔
حدیث نمبر: 1443
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمرٌو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا عِمْران بن داوَرَ (1) القَطَّان، حدثنا مَعمَر بن راشد، عن الزُّهري، عن أنس بن مالكٍ، قال: لما تُوفِّي رسولُ الله ﷺ ارتَدَّتِ العرب، فقال عمر بن الخطّاب: يا أبا بكر، أتريدُ أن تُقاتِلَ العرب؟ قال: فقال أبو بكر: إنَّما قال رسولُ الله ﷺ:"أُمِرتُ أن أقاتلَ الناس حتى يَشْهَدُوا أن لا إله إلّا الله، وأنِّي رسول الله، ويُقِيمُوا الصلاة، ويُؤتُوا الزكاة"، والله لو مَنَعوني عَنَاقًا مما كانوا يُعطُونَ رسولَ الله ﷺ، لأُقاتِلنَّهم عليه. قال عمر: فلمَّا رأيتُ رأيَ أبي بكرٍ قد شُرِحَ عليه، عَلِمتُ أنه الحقّ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجا عِمْرانَ القَطَّان، وليس لهما حُجَّة في تركه، فإنه مستقيم الحديث. وشاهدُه حديث أبي العَنْبَس ولم يُخرجاه:
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجا عِمْرانَ القَطَّان، وليس لهما حُجَّة في تركه، فإنه مستقيم الحديث. وشاهدُه حديث أبي العَنْبَس ولم يُخرجاه:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور عرب کے لوگ (زکوٰۃ کے معاملے میں) مرتد ہو گئے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے ابوبکر! کیا آپ عربوں سے جنگ کرنا چاہتے ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہی فرمایا تھا کہ: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں“، پس اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بکری کا ایک بچہ بھی دینے سے انکار کیا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، تو میں اس کی خاطر ان سے ضرور جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر جب میں نے دیکھا کہ اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اس رائے کے لیے کھول دیا ہے تو میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عمران قطان کی روایت نہیں لی لیکن ان کے پاس اسے ترک کرنے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ ان کی حدیث درست ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس کی حدیث ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1443]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عمران قطان کی روایت نہیں لی لیکن ان کے پاس اسے ترک کرنے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ ان کی حدیث درست ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس کی حدیث ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1443]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن من حديث أبي هريرة، عمران بن داور القطان لا تحتمل مخالفته، وقد خالفه هنا عبد الرزاق فرواه (6916) - وعنه أحمد في "المسند" 1/ (335) - عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عتبة بن مسعود، عن أبي هريرة. وتابع معمرًا جمعٌ في روايته عن الزهري، ...» [ترقيم الرساله 1443] [ترقيم الشركة 1431]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1444
أخبرَناه أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا الهَيثَم بن خالد، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا أبو العَنْبَس سعيد بن كَثِير، حدثني أَبي، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"أُمرتُ أن أقاتلَ الناس حتى يَشهَدوا أن لا إله إلّا الله، ويُقيمُوا الصَّلاة، ويُؤتُوا الزَّكاة، ثم حُرِّمت عليَّ دماؤُهم وأموالُهم وحِسابُهم (1) على الله ﷿" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر مجھ سے ان کے خون اور ان کے اموال محفوظ ہو جائیں گے اور ان کا (باطنی) حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہوگا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1444] [ترقيم الشركة 1432]