🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كتاب الزكاة
زکوٰۃ کے احکام کی کتاب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1443
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمرٌو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا عِمْران بن داوَرَ (1) القَطَّان، حدثنا مَعمَر بن راشد، عن الزُّهري، عن أنس بن مالكٍ، قال: لما تُوفِّي رسولُ الله ﷺ ارتَدَّتِ العرب، فقال عمر بن الخطّاب: يا أبا بكر، أتريدُ أن تُقاتِلَ العرب؟ قال: فقال أبو بكر: إنَّما قال رسولُ الله ﷺ:"أُمِرتُ أن أقاتلَ الناس حتى يَشْهَدُوا أن لا إله إلّا الله، وأنِّي رسول الله، ويُقِيمُوا الصلاة، ويُؤتُوا الزكاة"، والله لو مَنَعوني عَنَاقًا مما كانوا يُعطُونَ رسولَ الله ﷺ، لأُقاتِلنَّهم عليه. قال عمر: فلمَّا رأيتُ رأيَ أبي بكرٍ قد شُرِحَ عليه، عَلِمتُ أنه الحقّ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجا عِمْرانَ القَطَّان، وليس لهما حُجَّة في تركه، فإنه مستقيم الحديث. وشاهدُه حديث أبي العَنْبَس ولم يُخرجاه:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور عرب کے لوگ (زکوٰۃ کے معاملے میں) مرتد ہو گئے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے ابوبکر! کیا آپ عربوں سے جنگ کرنا چاہتے ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہی فرمایا تھا کہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پس اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بکری کا ایک بچہ بھی دینے سے انکار کیا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، تو میں اس کی خاطر ان سے ضرور جنگ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر جب میں نے دیکھا کہ اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اس رائے کے لیے کھول دیا ہے تو میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عمران قطان کی روایت نہیں لی لیکن ان کے پاس اسے ترک کرنے کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ ان کی حدیث درست ہے۔ اس کی شاہد ابو عنبس کی حدیث ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1443]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن من حديث أبي هريرة، عمران بن داور القطان لا تحتمل مخالفته، وقد خالفه هنا عبد الرزاق فرواه (6916) - وعنه أحمد في "المسند" 1/ (335) - عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عتبة بن مسعود، عن أبي هريرة. وتابع معمرًا جمعٌ في روايته عن الزهري، ...» [ترقيم الرساله 1443] [ترقيم الشركة 1431]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1443 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: داود.
🔍 فنی نکتہ: (1) قلمی نسخوں میں تحریف سے "داود" ہو گیا تھا (درست داور ہے)۔
(2) حديث صحيح، لكن من حديث أبي هريرة، عمران بن داور القطان لا تحتمل مخالفته، وقد خالفه هنا عبد الرزاق فرواه (6916) - وعنه أحمد في "المسند" 1/ (335) - عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عتبة بن مسعود، عن أبي هريرة. وتابع معمرًا جمعٌ في روايته عن الزهري، عن عبيد الله، عن أبي هريرة، فقد أخرجه أحمد 1/ (67) و (117) و (335)، والبخاري (1399) و (1400) و (1456) و (1457) و (6924) و (6925) و (7284) و (7285)، ومسلم (20)، وأبو داود (1556)، والترمذي (2607)، والنسائي (2235) و (3418) و (3419) و (3421) و (4284) و (4285)، وابن حبان (216) و (217) من طرق عن الزهري، عن عبيد الله، عن أبي هريرة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) حدیث صحیح ہے مگر حضرت ابوہریرہ کی مسند سے؛ عمران بن داور القطان کو اسے حضرت انس سے منسوب کرنے میں وہم ہوا ہے، جبکہ معمر اور دیگر ثقہ راویوں نے اسے زہری عن عبیداللہ عن ابی ہریرہ کی سند سے ہی روایت کیا ہے (بخاری 1399، مسلم 20)۔
أما حديث الزهري عن أنس، فقد أخرجه النسائي (3417) و (4287) عن محمد بن بشار، عن عمرو بن عاصم، بهذا الإسناد. وقال بإثر (4287): عمران القطان ليس بالقوي في الحديث، وهذا الحديث خطأ، والصواب حديث الزهري عن عبيد الله عن أبي هريرة. وبنحوه أعله أبو حاتم وأبو زرعة كما في "علل" ابن أبي حاتم 5/ 225 (1937)، وحمل أبو زرعة الوهم على عمران القطان. وانظر "علل الدارقطني" (3).
⚠️ علّت / فنی نکتہ: امام نسائی، ابوحاتم اور ابوزرعہ نے عمران القطان کی اس روایت کو "خطا" قرار دیا ہے اور صواب (درست) یہی ہے کہ یہ ابوہریرہ کی حدیث ہے۔
قلنا: ولعل الوهم دخل علي عمران بسبب حديثٍ رواه حميد الطويل عن أنس بن مالك قال: ¤ ¤ قال رسول الله ﷺ: "أُمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلّا الله، فإذا قالوها، وصلوا صلاتنا، واستقبلوا قبلتنا، وذبحوا ذبيحتنا، فقد حرمت علينا دماؤهم وأموالهم إلّا بحقها، وحسابهم على الله"، أخرجه أحمد 20/ (13056) و 21/ (13348)، والبخاري (392)، وأبو داود (2641)، والترمذي (2608)، والنسائي (4314) و (4315)، وابن حبان (5895).
🔍 فنی نکتہ: ہم کہتے ہیں کہ عمران القطان کو یہ وہم شاید حمید الطویل کی حضرت انس سے اس ملتی جلتی روایت کی وجہ سے ہوا جس میں "صلوا صلاتنا واستقبلوا قبلتنا" (ہماری طرح نماز پڑھیں اور قبلہ رخ ہوں) کے الفاظ ہیں۔
وفي الباب عن جابر بن عبد الله، سيأتي عند المصنف برقم (3970).
🔁 تکرار: اس باب میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت آگے نمبر (3970) پر آئے گی۔
وعن غير واحد من الصحابة، انظر تعليقنا على "مسند أحمد" (8163).
🧩 متابعات و شواہد: دیگر صحابہ کی روایات کے لیے مسند احمد (8163) پر ہمارا حاشیہ دیکھیں۔
والعَناق: هي الأنثى من ولد المعز ما لم تتم سنة.
📝 (توضیح): "العناق"؛ بکری کا وہ مادہ بچہ جو ابھی ایک سال کا نہ ہوا ہو۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1443 in Urdu