🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. إِذَا جَاءَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ فَأَوَّلُ مَنْ يُدْعَى بِهِ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ وَرَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ وَرَجُلٌ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
جب قیامت کا دن آئے گا تو سب سے پہلے جن لوگوں کو پکارا جائے گا (وہ یہ ہوں گے): ایک وہ شخص جس نے قرآن حفظ کیا، دوسرا وہ جس کے پاس بہت زیادہ مال تھا، اور تیسرا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1541
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري، أخبرنا عبد الله بن علي الغَزَّال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا حَيْوَةُ بن شُرَيح، حدثنا الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان، أنَّ عُقْبة بن مُسلم حدَّثه، أنَّ شُفيًّا حدّثه: أنه دخل المدينةَ فإذا هو برجل قد اجتمع الناسُ عليه، فقال: من هذا؟ قالوا: أبو هريرة، قال: فدَنَوتُ منه حتى قعدتُ بين يَدَيه وهو يحدِّث الناس، فلما سَكَتَ وخَلَا قلتُ: أَنْشُدُكَ اللهَ بحقِّ وحَقِّ، لَمَا حدَّثتَني حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ وعَلِمتَه. فقال أبو هريرة: أفعلُ، لأُحدِّثنَّك حديثًا حدَّثَنيهِ رسولُ الله ﷺ، عَقَلتُه وعَلِمتُه، ثم نَشَغَ أبو هريرة نَشْغةً، فمَكَثَ قليلًا، ثم أفاق فقال: لأُحدِّثنَّك حديثًا حدَّثَنيه رسولُ الله ﷺ وأنا وهو في البيت ما معنا أحدٌ غيري وغيرُه، ثم نَشَغَ أبو هريرة نَشْغةً أخرى فمَكَثَ بذلك، ثم أفاق ومسح وجهه فقال: أَفعلُ، لأحدِّثنَّك بحديثٍ حدَّثَنيه رسول الله ﷺ وأنا وهو في البيت ما معنا أحدٌ غيري وغيره، ثم نَشَغَ أبو هريرة نَشْغةً أخرى، ثم مالَ خارًّا على وجهه، وأَسندتُه طويلًا، ثم أفاق فقال: حدثني رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله ﷿ إذا كان يوم القيامة نَزَلَ إلى العباد ليقضِيَ بينهم، وكلُّ أمَّةٍ جاثيةٌ، فأولُ مَن يدعو به رجلٌ جَمَعَ القرآن، ورجلٌ يُقتَل في سبيل الله، ورجلٌ كثيرُ المال، فيقول الله للقارئ: ألم أُعلِّمْكَ ما أنزلتُ على رسولي؟ قال: بلى يا رب، قال: فماذا عَمِلتَ فيما عَلِمتَ؟ قال: كنتُ أقوم به آناءَ الليل وآناءَ النهار، فيقول الله له: كذبتَ، وتقول الملائكةُ له: كذبتَ، فيقول الله ﷿: أردتَ أن يقال: فلانٌ قارئ، فقد قيل. ويُؤتَى بصاحب المال فيقول: ألم أُوسِّعْ عليك حتى لم أدَعْك تحتاجُ إلى أَحد؟ قال: بلى، قال: فماذا عَمِلتَ فيما آتيتُك؟ قال: كنتُ أصِلُ الرَّحِمَ وأتصدَّق، فيقول الله له: كذبتَ، وتقول الملائكة: كذبتَ، ويقول الله: بل أردتَ أن يقال: فلانٌ جَوَاد، فقد قيل ذلك. ويُؤتَى بالذي قُتل في سبيل الله، فيقال له: فيمَ قُتِلتَ؟ فيقول: أُمِرتُ بالجهاد في سبيلِكَ فقاتلتُ حتى قُتِلتُ، فيقول الله: كذبتَ، وتقول الملائكة له: كذبتَ، ويقول الله: بل أردتَ أن يقال: فلانٌ جريءٌ، فقد قيل ذلك". ثم ضَرَبَ رسول الله ﷺ على رُكْبتي، فقال:"يا أبا هريرة، أولئك الثلاثةُ أولُ خَلْقِ الله تُسعَّرُ بهم النارُ يومَ القيامة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا. والوليد بن أبي الوليد العُذْري شيخٌ من أهل الشام لم يحتجَّ به الشيخان، وقد اتفقا جميعًا على شواهدَ لهذا الحديث بغير هذه السِّياقة.
سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مدینہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے اِردگرد بہت سارے لوگ جمع ہیں۔ انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیدنا سفیان فرماتے ہیں: میں ان کے قریب ہوا، اور ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ لوگوں کو حدیثیں سنا رہے تھے۔ جب وہ حدیثیں سنا کر فارغ ہوئے اور لوگ چلے گئے، تو میں نے کہا: میں تم سے اور کوئی چیز طلب نہیں کرتا سوائے اس کے کہ تم مجھے کوئی ایسی بات سناؤ جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی اور سیکھی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: میں بھی صرف ایک حدیث سنانا چاہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کافی دیر تک سسکیاں بھرتے رہے حتیٰ کہ بے ہوش ہو گئے۔ پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو کہنے لگے: میں تمہیں وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے (ایک مرتبہ) میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر میں تھے، میرے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تیسرا کوئی آدمی ہمارے پاس نہ تھا پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سسکیاں بھرنے لگے پھر آپ گر پڑے اور میں نے آپ کو بہت دیر تک سہارا دئیے رکھا پھر جب افاقہ ہوا: تو فرمانے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے ان کی طرف نزول فرمائے گا، جبکہ سب امتیں انگلیوں کے بل کھڑی ہوں گی تو سب سے پہلے جن کو طلب فرمائے گا (ان میں سے ایک) وہ شخص ہو گا جس نے قرآن حفظ کیا (اور ایک ایسا شخص ہو گا) جو جہاد فی سبیل اللہ کرتا رہا (اور ایک ایسا شخص ہو گا) جب بہت زیادہ مال و دولت والا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ قاری قرآن سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھے وہ نہیں سکھایا تھا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کیا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے اپنے علم پر کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا: میں دن رات اسی کی تلاوت میں مشغول رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے۔ اور فرشتے کہیں گے: تو جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرا تو یہ ارادہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے وہ کہہ لیا گیا ہے۔ پھر مالدار کو لایا جائے گا، اس کو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے اتنی دولت نہیں دی تھی کہ تجھے کسی انسان کا محتاج نہیں رہنے دیا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو کچھ میں نے تجھے دیا تھا تو نے اس میں (میری رضا کے لیے) کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا: میں صلہ رحمی کرتا رہا اور صدقہ کرتا رہا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے اور فرشتے کہیں گے: تو جھوٹا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تیری نیت تو یہ تھی (کہ تیرے بارے میں) کہا جائے فلاں شخص سخی ہے سو وہ کہہ لیا گیا۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، اس کو کہا جائے گا: تو کیوں قتل ہوا؟ وہ جواب دے گا: تو نے اپنے راستے میں جہاد کا حکم دیا تھا، میں جہاد کرتا رہا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے اور فرشتے اس کو کہیں گے: تو جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تیری نیت تو یہ تھی (کہ تیرے بارے میں) کہا جائے فلاں شخص بہت بہادر ہے سو وہ کہہ لیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اللہ کی مخلوق میں سب سے پہلے یہ تین لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا اور ولید بن ابی ولید عذری اہل شام کے شیخ ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل نہیں کیں۔ حالانکہ دونوں نے اس حدیث کی شاہد حدیث نقل کی ہیں۔ تاہم ان کی سند کچھ مختلف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1541]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں