المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. الطَّاعِمُ الشَّاكِي مِثْلُ الصَّائِمِ الصَّابِرِ
شکر گزار کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 1551
أخبرنا إسماعيل بن نُجَيد بن أحمد بن يوسف السُّلَمي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نَصْر الحافظ، حدثنا إسماعيل بن بِشْر بن منصور السُّلَمي، حدثنا عمر بن علي المُقدَّمي، حدثنا مَعْنُ بن محمد الغِفَاري، قال: سمعتُ حنظلةَ بن علي السَّدُوسيَّ (1) يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول بهذا البَقيع: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الطاعمُ الشاكرُ مثلُ الصَّائمِ الصَّابر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه (3) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بقیع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کھا کر شکر ادا کرنے والا (بندہ اللہ کے نزدیک) اس روزے دار کی طرح ہے جو صبر کرنے والا ہو۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1551]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل معن بن محمد الغفاري.» [ترقيم الرساله 1551] [ترقيم الشركة 1542]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1552
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، قال: قُرِئ على عبد الله بن وهب: أخبَرَكَ عمرو بن الحارث، عن بُكَير بن عبد الله [ابن] الأشَجِّ، عن يزيد بن أبي عُبيد، عن سَلَمةَ بن الأكوع قال: كنّا في رمضانَ في عهدِ رسولِ الله ﷺ مَن شاءَ صامَ، ومَن شاء أفطَرَ وافتَدى بطعامِ مسكين، حتى أُنزلت الآية: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ الآية [البقرة: 185] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم رمضان کے مہینے میں (اس حال میں) تھے کہ جو چاہتا وہ روزہ رکھتا اور جو چاہتا وہ روزہ نہ رکھتا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا کر فدیہ ادا کر دیتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ ”پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔“ [سورة البقرة: 185]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1552]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عمرو بن الحارث: هو ابن يعقوب الأنصاري، ويزيد بن أبي عبيد: هو مولى سلمة بن الأكوع.» [ترقيم الرساله 1552] [ترقيم الشركة 1543]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1553
أخبرني مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا أحمد بن حيّان بن مُلاعِب، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، حدثنا نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ الله جَعَلَ الأهلَّةَ مواقيت، فإذا رأيتُمُوه فصُومُوا، وإذا رأيتُمُوه فأفطِروا، فإن غُمَّ عليكم فاقْدُرُوا له، واعلموا أنَّ الأشهرَ لا تَزيدُ على ثلاثين" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابدٌ مجتهدٌ شريف النَّسب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابدٌ مجتهدٌ شريف النَّسب (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے چاندوں کو اوقات کے تعین کا ذریعہ بنایا ہے، لہٰذا جب تم اسے (رمضان کا چاند) دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (شوال کا چاند) دیکھو تو افطار کرو (عید مناؤ)، پھر اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو جائے تو اس کا اندازہ کر لو (یعنی تیس دن پورے کر لو)، اور جان لو کہ مہینہ تیس دن سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبدالعزیز بن ابی رواد ثقہ، عابد، مجتہد اور معزز نسب والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1553]
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبدالعزیز بن ابی رواد ثقہ، عابد، مجتہد اور معزز نسب والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد العزيز بن أبي رواد. أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل، وأحمد بن حيان بن ملاعب تقدم ذكر الخلاف في اسمه عند الحديث رقم (1278).» [ترقيم الرساله 1553] [ترقيم الشركة 1544]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1554
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا عبد الله بن صالح، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الله بن أبي قيس، قال: سمعتُ عائشةَ تقول: كان رسولُ الله ﷺ يَتحفَّظُ من هلال شعبانَ ما لا يَتحفَّظُ من غيره، ثم يصومُ لرؤيةِ رمضان، فإن غُمَّ عليه عَدَّ ثلاثين يومًا ثم صام (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، فقد حدَّث ابنُ وهبٍ وغيرُه عن معاوية بن صالح، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، فقد حدَّث ابنُ وهبٍ وغيرُه عن معاوية بن صالح، ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند کی تاریخوں کی جتنی حفاظت فرماتے تھے اتنی کسی اور مہینے کی نہیں فرماتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے، لیکن اگر مطلع ابر آلود ہوتا تو تیس دن کی گنتی پوری کرتے اور پھر روزہ رکھتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام ابن وہب اور دیگر نے اسے معاویہ بن صالح سے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں درج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1554]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام ابن وہب اور دیگر نے اسے معاویہ بن صالح سے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں درج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن صالح» [ترقيم الرساله 1554] [ترقيم الشركة 1545]
الحكم على الحديث: حديث صحيح