🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ
جس کو بے اختیار قے آ جائے اس پر قضا نہیں، اور جو جان بوجھ کر قے کرے وہ قضا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1571
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان وجعفر بن أحمد بن نصْر، قالا: حدثنا علي بن حُجْر؛ قالا: حدثنا عيسى بن يونس، عن هشام بن حسان، عن ابن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن ذَرَعَه القيءُ فليس عليه قضاءٌ، ومن استَقَاءَ فَلْيَقْضِ" (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے (روزے کی حالت میں) خود بخود قے آ جائے اس پر (اس روزے کی) قضا نہیں ہے، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی وہ اس کی قضا کرے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1571]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وأبو المثنى: هو معاذ بن المثنى، وأبو الوليد الفقيه: اسمه حسان بن محمد.» [ترقيم الرساله 1571] [ترقيم الشركة 1562]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں