المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
پچھنا لگانے والا اور جسے پچھنا لگایا گیا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1572
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيْروتي، حدثني أبي، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو قِلابةَ، حدثني أبو أسماءَ، حدثني ثَوْبان قال: خرجتُ مع رسول الله ﷺ لثماني عشرةَ ليلةً خَلَتْ من شهر رمضان، فلمّا كان بالبَقيع نَظَرَ رسولُ الله ﷺ إلى رجلٍ يَحتجمُ، فقال رسول الله ﷺ:"أفطَرَ الحاجِمُ والمَحجُوم" (1) . قد أقام الأوزاعيُّ هذا الإسناد فجوَّده، وبيَّن سماعَ كلِّ واحدٍ من الرواة من صاحبه، وتابعه على ذلك شَيْبان بن عبد الرحمن النَّحْوي وهشام بن أبي عبد الله الدَّستُوائي، وكلُّهم ثقات، فإذًا الحديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. أما حديث شَيبان:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رمضان کے مہینے کی اٹھارہ راتیں گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کے مقام پر پہنچے تو ایک شخص کو پچھنے لگواتے (حجامت کرواتے) ہوئے دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
امام اوزاعی نے اس سند کو انتہائی عمدگی اور پختگی کے ساتھ بیان کیا ہے اور ہر راوی کا اپنے استاد سے سماع بھی واضح کیا ہے، اسی طرح ثقہ رواۃ کی ایک جماعت نے ان کی متابعت کی ہے، لہٰذا یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1572]
امام اوزاعی نے اس سند کو انتہائی عمدگی اور پختگی کے ساتھ بیان کیا ہے اور ہر راوی کا اپنے استاد سے سماع بھی واضح کیا ہے، اسی طرح ثقہ رواۃ کی ایک جماعت نے ان کی متابعت کی ہے، لہٰذا یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1572]
حدیث نمبر: 1573
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عَمرَوَيهِ الصفَّار ببغدادَ من أصل كتابه، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأشْيَب. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعليُّ بن حَمْشاذَ العدلُ، قالا: حدثنا عبد الله ابن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا الحسن، عن (1) شَيْبان بن عبد الرحمن، عن يحيى بن أبي كثير، أخبرني أبو قِلابةَ، أنَّ أبا أسماءَ الرَّحَبيَّ حدثه، أنَّ ثَوبانَ مولى رسول الله ﷺ أخبره قال: بينما رسولُ الله ﷺ يمشي في البقيع في رمضان، إذ رأى رجلًا يحتجم، فقال:"أفطَرَ الحاجِمُ والمَحجُوم" (2) . قال أحمد بن حنبل: وهو أصحُّ ما رُويَ في هذا الباب. وأما حديث هشام الدَّستُوائي:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بقیع سے گزر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو پچھنے لگواتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس باب میں یہ سب سے صحیح ترین روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1573]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس باب میں یہ سب سے صحیح ترین روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1573]
حدیث نمبر: 1574
فأخبرنا أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا أبو عمر الحَوْضي، حدثنا هشام. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن هشام، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي قِلَابة، أنَّ أبا أسماء الرَّحَبي حدثه، أنَّ ثوبان أخبره قال: بينما رسولُ الله ﷺ يمشي بالبَقِيع في رمضان، إذ رأى رجلًا يَحتجِم، فقال:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجومُ" (3) . فهذه الأسانيد المبيَّن فيها سماعُ الرواة الذين هم ناقِلوها والثقاتِ الأثبات، لا تُعلَّل بخلافٍ يكون فيه بين المجروحين على أبي قلابة وغيره فيه. وعند يحيى بن أبي كثير فيه إسنادٌ آخر صحيحٌ على شرط الشيخين:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بقیع میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص کو حجامت (پچھنے) کرواتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
یہ اسانید جن میں ثقہ رواۃ کا سماع بالکل واضح ہے، ان پر ان لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا جو ابو قلابہ وغیرہ سے روایت کرنے میں مجروح (کمزور) رواۃ کے زمرے میں آتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1574]
یہ اسانید جن میں ثقہ رواۃ کا سماع بالکل واضح ہے، ان پر ان لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا جو ابو قلابہ وغیرہ سے روایت کرنے میں مجروح (کمزور) رواۃ کے زمرے میں آتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1574]
حدیث نمبر: 1575
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، حدثنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق. وحدثني أبو بكر محمد بن جعفر المُزكِّي، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا العباس بن عبد العظيم العَنْبري، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارِظ، عن السائب بن يزيد، عن رافع بن خَدِيج قال: قال رسول الله ﷺ:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجومُ" (1) . وفي حديث إسحاق الدَّبَري: والمُستَحجِم. وقال أبو بكر محمد بن إسحاق في حديثه: سمعتُ العباس بن عبد العظيم يقول: سمعتُ عليَّ بن المَديني يقول: لا أعلمُ في الحاجم والمحجوم حديثًا أصحَّ من هذا (2) . تابعه معاويةُ بن سلَّام عن يحيى بن أبي كثير:
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ اسحاق دبری کی روایت میں ”پچھنے کی طلب کرنے والے“ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے عباس بن عبدالعظیم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے علی بن مدینی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے کے متعلق میں اس سے زیادہ صحیح کوئی حدیث نہیں جانتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1575]
حدیث نمبر: 1576
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، أخبرنا الرَّبيع بن نافع، حدثنا معاوية بن سلَّام، حدثنا يحيى بن أبي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارِظ، عن السَّائب بن يزيد، عن رافع بن خَدِيج، عن رسول الله ﷺ نحوَه (1) . فليَعلمْ طالبُ هذا العلم أنَّ الإسنادين ليحيى بن أبي كثير قد حَكَمَ لأحدهما أحمدُ بن حنبل بالصحة، وحَكَمَ علي بن المَديني للآخر بالصحة، فلا يُعلَّل أحدُهما بالآخر. وقد حكم إسحاق بن إبراهيم الحنظلي لحديث شدّاد بن أَوس بالصحة:
سیدنا معاویہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ، رافع بن خدیج کے حوالے سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی فرمان منقول ہے۔ ٭٭ اس علم کے طلبگار کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ دونوں اسنادیں یحیی بن ابی کثیر کی ہیں، ان میں سے ایک کو امام احمد بن حنبل نے اور دوسری کو علی بن المدینی نے صحیح قرار دیا ہے، اس لیے ان میں سے کسی ایک کی وجہ سے دوسری کو معلل قرار نہیں دے سکتے۔ اور اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے شداد بن اوس کی حدیث کو بھی صحیح قرار دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1576]
حدیث نمبر: 1577
حدَّثَناه أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيْب. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أحمد بن إسحاق الحضرمي، حدثنا وُهَيْب، حدثنا أيوب، عن أبي قِلابة، عن أبي الأشعث الصَّنعاني، عن شدَّاد بن أَوس: أنَّ رسول الله ﷺ أتى على رجلٍ بالبَقيع وهو يَحتَجِم، وهو آخذٌ بيدي، لثمانِ عَشْرةَ خَلَتْ من رمضان، فقال:"أفطَرَ الحاجمُ والمَحجُوم" (2) . فسمعتُ محمدَ بن صالح يقول: سمعتُ أحمد بن سَلَمة يقول: سمعتُ إسحاق بن إبراهيم يقول: هذا إسنادٌ صحيحٌ تقوم به الحُجة. وهذا الحديث قد صحَّ بأسانيد، وبه نقول، فرضي الله عن إمامنا أبي يعقوب (1) ، فقد حَكَمَ بالصحة لحديثٍ ظاهرٌ صحتُه وقال به. وقد اتَّفق الثوريُّ وشعبةُ على روايته عن عاصم الأحول عن أبي قِلابةَ هكذا. أما حديث الثَّوري:
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں ایک شخص کے پاس گئے تو وہ پچھنے لگوا رہا تھا، اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور یہ اٹھارھویں روزے کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ ٭٭ (امام حاکم فرماتے ہیں) محمد بن صالح نے احمد بن سلمہ کے حوالے سے اسحاق بن ابراہیم کا یہ بیان نقل کیا ہے: یہ اسناد صحیح ہے، اس کے ساتھ حجت قائم کی جا سکتی ہے اور یہ حدیث دیگر اسانید کے ہمراہ بھی صحیح ہے اور وہ یہی کہا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ ہمارے امام ابویعقوب سے راضی ہو جنہوں نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ حدیث عاصم الاحول کے واسطے سے ابوقلابہ سے ثوری اور شعبہ نے بھی اس انداز میں بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1577]
حدیث نمبر: 1578
فأخبرَناه محمد بن عليٍّ الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا قَبِيصةُ بن عُقبة، حدثنا سفيان. وأخبرني أبو بكر بن حاتم المروَزي، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن عاصم الأحول عن أبي قِلابةَ، عن أبي الأشعث الصَّنعاني، عن شدَّاد بن أوسٍ قال: مَرَّ رسول الله ﷺ بمَعقِلِ بن يسار صَبِيحةَ ثماني عَشْرةَ من رمضان وهو يَحتجِم، فقال:"أفطَرَ الحاجِمُ والمحجومُ" (1) . وأما حديث شُعْبة:
ثوری اپنی سند کے ہمراہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کی اٹھارہ تاریخ کو دن کے وقت سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو وہ پچھنے لگوا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے والا اور لگوانے والا دونوں کا روزہ جاتا رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1578]
حدیث نمبر: 1579
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرير، حدثنا شعبة. وأخبرني أبو عمرو بن جعفر العَدْل، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن عاصم، عن أبي قِلابةَ، عن أبي الأشعث، عن شدّاد بن أوس: أنَّ النبي ﷺ مَرَّ برجل يَحتَجِم في سبعَ عَشْرةَ من رمضان، فقال:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجومُ" (1) .
سیدنا شعبہ رضی اللہ عنہ اپنی سند کے ہمراہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سترھویں روزے ایک شخص کے پاس سے گزرے تو وہ پچھنے لگوا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ جاتا رہا۔ ٭٭ (امام حاکم فرماتے ہیں) ابومحمد الحسن بن محمد بن اسحاق الاسفرائنی نے محمد بن احمد البراء کے حوالے سے علی بن المدینی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ شداد بن اوس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث کہ ” آپ نے رمضان میں ایک شخص کو پچھنے لگواتے دیکھا “ اس کو عاصم الاحوال نے ابوقلابہ کے واسطے سے ابوالاشعث سے روایت کیا ہے اور اسی کو یحیی بن ابی کثیر نے ابوقلابہ کے بعد ابواسماء کے واسطے سے ابوالاشعث سے روایت کیا ہے۔ اور میرے نزدیک یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ اور یہ ممکن ہے کہ انہوں نے اس حدیث کا دونوں سے سماع کیا ہو۔ اور روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے کی اجازت پر مشتمل حدیث درج ذیل ہے۔ اور اس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بخاری میں نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1579]
حدیث نمبر: 1580
حدثنا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايِني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا علي بن المَدِيني قال: حديثُ شدّاد بن أوس عن رسول الله ﷺ: أنه رأى رجلًا يَحتجمُ في رمضان، رواه عاصم الأحول عن أبي قِلابةَ عن أبي الأشعث، ورواه يحيى بن أبي كثير عن أبي قِلابةَ عن أبي أسماء عن ثَوْبان، ولا أَرى الحديثين إلَّا صحيحين، فقد يمكن أن يكون سَمِعَه منهما جميعًا. فأما الرُّخصة للحِجَامة للصائم، فقد أخرجه محمد بن إسماعيل البخاري في"الجامع الصحيح".
0 [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1580]