🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. تَرْغِيبُ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ
ہفتہ اور اتوار کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1610
أخبرَناه الحسن بن حَلِيم المَرْوَزي، أخبرنا أبو المُوَجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الله بن محمد بن عمر بن علي، عن أبيه، أنَّ كُرَيبًا مولى ابن عباس أخبره: أنَّ ابن عباس وناسًا من أصحاب الرسول ﷺ بَعَثُوني إلى أم سلمةَ أسألُها عن أيِّ الأيام كان رسولُ الله ﷺ أكثرَ لها صيامًا؟ فقالت: يومُ السبت والأحد، فرجعتُ إليهم فأخبرتُهم، فكأنَّهم أنكروا ذلك، فقاموا بأجمَعِهم إليها، فقالوا: إنّا بَعثْنا إليكِ هذا في كذا وكذا، فذَكَرَ أنكِ قلتِ كذا وكذا، فقالت: صَدَقَ، إنَّ رسول الله ﷺ أكثرُ ما كان يصومُ من الأيام يومُ السبت والأحد، وكان يقول:"إنَّهما يومانِ عيدٌ للمشركين (4) ، وأنا أُريدُ أن أُخالِفَهم" (5) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کن دنوں میں سب سے زیادہ روزہ رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہفتے اور اتوار کے دن۔ میں نے واپس آ کر انہیں بتایا تو گویا انہوں نے اس بات کو عجیب سمجھا، پھر وہ سب مل کر ان کے پاس گئے اور عرض کیا: ہم نے اس قاصد کو آپ کے پاس فلاں بات پوچھنے بھیجا تھا تو اس نے بتایا کہ آپ نے ایسا فرمایا ہے، انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ ہفتے اور اتوار کا روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے: یہ دونوں دن مشرکوں کی عید کے دن ہیں اور میں (روزہ رکھ کر) ان کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل عبد الله بن محمد بن عمر العلوي وأبيه، وقد صحَّح هذا الحديث ابن خزيمة وابن حبان، وحسنه ابن القطان في "بيان الوهم والإيهام" 4/ 269. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبدان لقبه، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 1610] [ترقيم الشركة 1599]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں