المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا
عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 1611
حدثني علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جَرِير، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيدٍ، قال: جاءت امرأةٌ إلى النبي ﷺ ونحن عندَه، فقالت: يا رسول الله، إنَّ زوجي صفوانَ بنَ المُعَطَّل يَضربُني إذا صليتُ، ويُفطِّرُني إذا صُمتُ، ولا يصلِّي صلاةَ الفجر حتى تطلُعَ الشمس، قال: وصفوانُ عندَه، قال: فسألَه عمَّا قالت، فقال: يا رسولَ الله، أمّا قولها: يَضربُني إذا صليتُ، فإنها تقرأُ سورتين نهيتُها عنهما، وقلت: لو كان سورةً واحدةً لكَفَتِ الناس، وأما قولها: يُفطِّرني إذا صمتُ، فإنها تنطلقُ فتصومُ وأنا رجلٌ شابٌّ فلا أصبِر، فقال رسولُ الله ﷺ يومئذٍ:"لا تصومُ امرأةٌ إلَّا بإذنِ زوجها"، وأما قولُها: بأنِّي لا أصلِّي حتى تَطلُعَ الشمس، فإنَّا أهلُ بيتٍ قد عُرِفَ لنا ذاك، لا نكادُ نَستيقظُ حتى تطلع الشمس، قال:"فإذا استَيقظتَ فصَلِّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ ہم آپ کے پاس موجود تھے، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرا شوہر صفوان بن معطل جب میں نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتا ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو میرا روزہ تڑوا دیتا ہے، اور وہ سورج نکلنے تک فجر کی نماز نہیں پڑھتا۔“ راوی کہتے ہیں کہ صفوان وہیں موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس خاتون کی شکایت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! جہاں تک اس کے اس قول کا تعلق ہے کہ میں اسے نماز پڑھنے پر مارتا ہوں، تو یہ (نماز میں) ایسی دو لمبی سورتیں پڑھتی ہے جن سے میں نے اسے منع کیا ہے، میں نے اسے کہا کہ اگر ایک ہی سورت پڑھی جائے تو وہ لوگوں کے لیے کافی ہے؛ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس کا روزہ تڑوا دیتا ہوں، تو یہ (نفل) روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے جبکہ میں ایک جوان آدمی ہوں اور (اپنی فطری ضرورت پر) صبر نہیں کر پاتا“؛ تو اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت (نفل) روزہ نہ رکھے مگر اپنے شوہر کی اجازت سے“؛ اور جہاں تک اس کے اس قول کا تعلق ہے کہ میں سورج نکلنے تک نماز نہیں پڑھتا، تو ہم ایسے گھرانے سے ہیں جس کے بارے میں یہ بات معروف ہے (کہ ہم گہری نیند سوتے ہیں) اور سورج نکلنے تک ہماری آنکھ ہی نہیں کھلتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(صفوان!) جب تم بیدار ہو جایا کرو تو نماز پڑھ لیا کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1611]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو صالح: هو ذكوان السمان، وأبو سعيد: هو سعد بن مالك الخدري ﵁.» [ترقيم الرساله 1611] [ترقيم الشركة 1600]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح