المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. ترغيب صيام يوم السبت والأحد
ہفتہ اور اتوار کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 1610
أخبرَناه الحسن بن حَلِيم المَرْوَزي، أخبرنا أبو المُوَجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الله بن محمد بن عمر بن علي، عن أبيه، أنَّ كُرَيبًا مولى ابن عباس أخبره: أنَّ ابن عباس وناسًا من أصحاب الرسول ﷺ بَعَثُوني إلى أم سلمةَ أسألُها عن أيِّ الأيام كان رسولُ الله ﷺ أكثرَ لها صيامًا؟ فقالت: يومُ السبت والأحد، فرجعتُ إليهم فأخبرتُهم، فكأنَّهم أنكروا ذلك، فقاموا بأجمَعِهم إليها، فقالوا: إنّا بَعثْنا إليكِ هذا في كذا وكذا، فذَكَرَ أنكِ قلتِ كذا وكذا، فقالت: صَدَقَ، إنَّ رسول الله ﷺ أكثرُ ما كان يصومُ من الأيام يومُ السبت والأحد، وكان يقول:"إنَّهما يومانِ عيدٌ للمشركين (4) ، وأنا أُريدُ أن أُخالِفَهم" (5) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ” کریب “ بیان کرتے ہیں: سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما اور کچھ دیگر اصحابِ رسول نے ان کو اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے یہ بات پوچھ کر آؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے دنوں میں زیادہ روزے رکھا کرتے تھے؟ (میں نے جا کر ان سے پوچھا: تو) انہوں نے جواب دیا: ہفتے اور اتوار کے دن (آپ زیادہ تر روزہ رکھا کرتے تھے) میں نے واپس آ کر ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور پھر وہ سب اکٹھے اُمّ المومنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ گئے اور عرض کی کہ ہم نے اس شخص کو آپ کے پاس فلاں بات پوچھنے کے لیے بھیجا تھا تو آپ نے اس کو فلاں جواب دیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے سچ کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر طور پر ہفتہ اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ دونوں دن مشرکوں کی عید کے دن ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ان کی مخالفت کروں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1610]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1610 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) كذا في (ز)، وفي (ص) و (ب) و (ع): "يومان عيد المشركين"، وفي "السنن الكبرى" 4/ 303 و"فضائل الأوقات" (306) كلاهما للبيهقي: "يوما عيدٍ للمشركين"، ورواه فيهما عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده ومتنه.
⚠️ سندی اختلاف: نسخہ (ز) میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ص)، (ب) اور (ع) میں "یہ دو دن مشرکین کی عید کے ہیں" کے الفاظ ہیں۔ بیہقی کی السنن الکبریٰ 4/ 303 اور فضائل الاوقات (306) میں "مشرکین کے لیے عید کے دو دن" کے الفاظ ہیں، اور انہوں نے اسے امام حاکم سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(5) إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عمر العلوي وأبيه، وقد صحَّح ¤ ¤ هذا الحديث ابن خزيمة وابن حبان، وحسنه ابن القطان في "بيان الوهم والإيهام" 4/ 269. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبدان لقبه، وعبد الله: هو ابن المبارك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن محمد بن عمر العلوی اور ان کے والد کی وجہ سے حسن ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح، جبکہ ابن القطان نے بیان الوہم والإیہام 4/ 269 میں حسن قرار دیا ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو الموجه (محمد بن عمرو الفزاری)، عبدان (عبد اللہ بن عثمان) اور عبد اللہ بن المبارک اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 44/ (26750) عن عتاب بن زياد، والنسائي (2789)، وابن حبان (3646) من طريق حبان بن موسى، وابن حبان (3616) من طريق سلمة بن سليمان، ثلاثتهم عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. رواية عتاب مختصرة ليس فيها قصة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 44/ (26750) نے عتاب بن زیاد سے، نسائی (2789) اور ابن حبان (3646) نے حبان بن موسیٰ سے، اور ابن حبان نے (3616) پر سلمہ بن سلیمان سے (تینوں نے ابن المبارک سے) اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ عتاب کی روایت مختصر ہے جس میں قصہ مذکور نہیں۔
وأخرج النسائي (2788) من طريق بقية بن الوليد، عن ابن المبارك، به إلى كريب: أنَّ ابن عباس بعث إلى أم سلمة وإلى عائشة يسألهما: ما كان رسول الله ﷺ يحب أن يصوم من الأيام؟ فقالتا: ما مات رسول الله ﷺ حتى كان أكثر صومه يوم السبت والأحد، ويقول: "هما عيدان لأهل الكتاب، فنحن نحب أن نخالفهم". وبقية ليس بالقوي.
🧾 تفصیلِ روایت: نسائی (2788) نے بقیہ بن ولید عن ابن المبارک کے طریق سے کریب تک روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے ام سلمہ ؓ اور عائشہ ؓ کے پاس پیغام بھیجا اور پوچھا: رسول اللہ ﷺ کن دنوں میں روزہ رکھنا پسند کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کی وفات تک آپ کا اکثر روزہ ہفتہ اور اتوار کو ہوتا تھا، اور آپ فرماتے تھے: "یہ دونوں اہل کتاب کی عید کے دن ہیں، اس لیے ہم ان کی مخالفت کرنا پسند کرتے ہیں"۔ 👤 راوی پر جرح: بقیہ (بن ولید) قوی راوی نہیں ہیں۔