🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. لا تصوم امرأة إلا بإذن زوجها
عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1611
حدثني علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جَرِير، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيدٍ، قال: جاءت امرأةٌ إلى النبي ﷺ ونحن عندَه، فقالت: يا رسول الله، إنَّ زوجي صفوانَ بنَ المُعَطَّل يَضربُني إذا صليتُ، ويُفطِّرُني إذا صُمتُ، ولا يصلِّي صلاةَ الفجر حتى تطلُعَ الشمس، قال: وصفوانُ عندَه، قال: فسألَه عمَّا قالت، فقال: يا رسولَ الله، أمّا قولها: يَضربُني إذا صليتُ، فإنها تقرأُ سورتين نهيتُها عنهما، وقلت: لو كان سورةً واحدةً لكَفَتِ الناس، وأما قولها: يُفطِّرني إذا صمتُ، فإنها تنطلقُ فتصومُ وأنا رجلٌ شابٌّ فلا أصبِر، فقال رسولُ الله ﷺ يومئذٍ:"لا تصومُ امرأةٌ إلَّا بإذنِ زوجها"، وأما قولُها: بأنِّي لا أصلِّي حتى تَطلُعَ الشمس، فإنَّا أهلُ بيتٍ قد عُرِفَ لنا ذاك، لا نكادُ نَستيقظُ حتى تطلع الشمس، قال:"فإذا استَيقظتَ فصَلِّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (ایک دفعہ) ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک خاتون آپ کے پاس آئی اور عرض کرنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا شوہر صفوان بن المعطل رضی اللہ عنہ ہے۔ میں نماز پڑھوں تو یہ مجھے مارتا ہے اور جب میں روزہ رکھوں تو یہ میرا روزہ چھڑوا دیتا ہے۔ اور یہ نمازِ فجر بھی طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہے۔ (ابوسعید) فرماتے ہیں: اس وقت صفوان رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ آپ علیہ السلام نے ان سے اس خاتون کی شکایت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جہاں تک اس کی اس بات کا تعلق ہے کہ جب یہ نماز پڑھتی ہے تو میں اسے مارتا ہوں (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ دو سورتیں پڑھتی ہے اور میں اس کو اس کام سے منع کرتا ہوں کیونکہ میرا کہنا یہ ہے: اگر سورۃ ایک بھی ہو تو وہ کافی ہے۔ اور جہاں تک اس کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ یہ جب روزہ رکھتی ہے تو میں اس کا روزہ ختم کروا دیتا ہوں (تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں جوان آدمی ہوں، مجھ سے رہا نہیں جاتا۔ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزے نہ رکھے۔ اور جہاں تک اس کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ میں طلوع آفتاب کے بعد نمازِ فجر پڑھتا ہوں۔ (تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) میرا تعلق ایسے خاندان سے ہے جن کے بارے میں مشہور ہے (کہ یہ لوگ دیر سے اٹھتے ہیں) طلوع آفتاب سے پہلے میری آنکھ ہی نہیں کھلتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) جب سو کر اٹھو تو اس وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1611]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1611 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو صالح: هو ذكوان السمان، وأبو سعيد: هو سعد بن مالك الخدري ﵁.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: جریر (بن عبد الحمید)، الاعمش (سلیمان بن مہران)، ابو صالح (ذکوان السمان) اور صحابی حضرت ابو سعید خدری ؓ اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 18/ (11759)، وأبو داود (2459) عن عثمان بن أبي شيبة، بهذا الإسناد. ¤ ¤ وقد وقع عندهما قوله: "لو كانت سورةً واحدةً لكفت الناس" مرفوعًا من كلام النبي ﷺ، وليس من كلام صفوان، وقد تابع عثمانَ بنَ أبي شيبةَ على رفعه غيرُ واحد، ولم تقع لنا هذه العبارة موقوفة إلّا عند الحاكم هنا، وقد رواها هكذا عنه في "السنن الكبرى" 4/ 303، مما يدل على أنَّ وقفها وهمٌ، ولعلَّ الوهم وقع ممن هو دون عثمان بن أبي شيبة، والله أعلم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: اسے احمد 18/ (11759) اور ابو داود (2459) نے عثمان بن ابی شیبہ کے طریق سے روایت کیا ہے، جہاں "اگر صرف ایک ہی سورت ہوتی تو وہ لوگوں کے لیے کافی تھی" کے الفاظ مرفوعاً نبی ﷺ کے کلام کے طور پر مذکور ہیں، نہ کہ صفوان کے کلام کے طور پر۔ امام حاکم کے علاوہ کسی نے اسے موقوف روایت نہیں کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں موقوف ہونا وہم ہے، جو غالباً عثمان بن ابی شیبہ سے نچلے کسی راوی سے ہوا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1488) من طريق أبي خيثمة زهير بن حرب، عن جرير بن عبد الحميد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (1488) نے ابی خيثمہ زہیر بن حرب عن جریر بن عبد الحمید کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (11801) من طريق أبي بكر بن عياش، عن الأعمش، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11801) نے ابوبکر بن عیاش عن الاعمش کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج ابن ماجه (1762) من طريق سليمان بن مهران، عن أبي صالح، عن أبي سعيد الخدري قال: نهى رسول الله ﷺ النساء أن يصلين إلّا بإذن أزواجهن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1762) نے سلیمان بن مہران عن ابی صالح عن ابی سعید خدری ؓ سے روایت کیا، وہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے"۔
وقد استشكل البخاري هذا الحديث فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 3/ 441 في ترجمة صفوان بن المعطل، واستنكره البزار وأعله بتدليس الأعمش، فيما نقله عنه الحافظ أيضًا في "الفتح" 14/ 35 - 36، وأجاب الحافظ هناك عن هذه الإشكالات فيما يستحق الرجوع إليه.
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام بخاری نے اس حدیث پر اشکال کیا ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے الإصابة 3/ 441 میں نقل کیا، بزار نے اسے منکر کہا اور اعمش کی تدلیس کی وجہ سے اسے معلول قرار دیا۔ حافظ ابن حجر نے الفتح 14/ 35-36 میں ان اشکالات کے مدلل جوابات دیے ہیں۔
وانظر كلام الطحاوي في ذلك في "شرح مشكل الآثار" (2044).
📖 حوالہ / مصدر: اس بارے میں امام طحاوی کا کلام شرح مشكل الآثار (2044) میں ملاحظہ کریں۔
ولفقه الحديث انظر "معالم السنن" للخطابي 2/ 136.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اس حدیث کی فقہی تفہیم کے لیے خطابی کی معالم السنن 2/ 136 کی طرف رجوع کریں۔
وفي باب عدم صيام المرأة إلّا بإذن زوجها عن أبي هريرة عند البخاري (5192)، ومسلم (1026).
🧩 متابعات و شواہد: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے روزہ نہ رکھنے کے بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت بخاری (5192) اور مسلم (1026) میں موجود ہے۔