المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. الْحَجُّ فِي كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً
کیا حج ہر سال فرض ہے یا زندگی میں ایک مرتبہ۔
حدیث نمبر: 1626
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن أبي سِنان، عن ابن عباس: أنَّ الأقرع بن حابس سأل النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، الحجُّ في كلِّ سنةٍ، أو مرةً واحدة؟ قال:"مرةً واحدةً، فمن أراد فتطوُّعٌ (1) " (2) . هذا إسناد صحيح، وأبو سنان هذا هو الدُّؤَلي، ولم يخُرجاه، فإنهما لم يخرجا سفيان بن حسين وهو من الثقات الذين يُجمَع حديثهم.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال (فرض) ہے یا زندگی میں صرف ایک مرتبہ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف ایک مرتبہ، اور جو اس سے زیادہ کرے تو وہ نفلی عمل (تطوع) ہے۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں اور ابو سنان سے مراد دؤلی ہیں، شیخین نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ انہوں نے سفیان بن حسین کی احادیث نقل نہیں کیں حالانکہ وہ ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1626]
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں اور ابو سنان سے مراد دؤلی ہیں، شیخین نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ انہوں نے سفیان بن حسین کی احادیث نقل نہیں کیں حالانکہ وہ ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، سفيان بن حسين ثقة إلّا في روايته عن الزهري، وقد توبع. سعيد بن مسعود: هو ابن عبد الرحمن المروزي، وأبو سنان: هو يزيد بن أمية الدؤلي.» [ترقيم الرساله 1626] [ترقيم الشركة 1615]
الحكم على الحديث: حديث صحيح