المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ
سب سے بہتر صحابہ چار ہیں اور بہترین لشکروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1638
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمصر، حدثنا وَهْب بن جَرِير حدثنا أبي، قال: سمعتُ يونس بن يزيد يحدِّث عن الزُّهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ الصحابة أربعةٌ، وخيرُ الجيوش أربعةُ آلاف، ولم يُغلَبْ اثنا عَشَرَ ألفًا من قِلَّة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاهن والخلاف فيه على الزهري من أربعة أوجه قد شرحتُها في كتاب"التلخيص".
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاهن والخلاف فيه على الزهري من أربعة أوجه قد شرحتُها في كتاب"التلخيص".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین ساتھی چار ہیں: اور بہترین لشکر چار ہزار اور یہ قلت کی وجہ سے 12000 سے مغلوب نہیں ہو سکتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس کے اندر زہری پر چار طرح کا اختلاف ہے جس کی تشریح میں نے کتاب التخلیص میں کر دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1638]
حدیث نمبر: 1639
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن سعيد المَقبُري، عن عطاء، عن أبي هريرة قال: بَعَثَ رسول الله ﷺ بعثًا وهم نَفَر، فقال:"ماذا معكم من القرآن؟" فاستَقرَأَهم كذلك حتى مَرَّ على رجلٍ منهم هو من أحدَثِهم سِنًّا، فقال:"ماذا معك يا فلانُ؟"، قال: كذا وكذا وسورةُ البقرة، قال:"اذهب فأنتَ أميرُهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وفد کو کسی مقصد کی خاطر بھیجا اور ان سے پوچھا: تمہیں کس کس کو کتنا قرآن یاد ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے سنتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ان سب سے کم عمر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے کتنا قرآن آتا ہے؟ اس نے بتایا کہ فلاں فلاں سورت ہے اور سورۃ بقرہ بھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ان کا امیر مقرر کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1639]