🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. خير الصحابة أربعة وخير الجيوش
سب سے بہتر صحابہ چار ہیں اور بہترین لشکروں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1639
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن سعيد المَقبُري، عن عطاء، عن أبي هريرة قال: بَعَثَ رسول الله ﷺ بعثًا وهم نَفَر، فقال:"ماذا معكم من القرآن؟" فاستَقرَأَهم كذلك حتى مَرَّ على رجلٍ منهم هو من أحدَثِهم سِنًّا، فقال:"ماذا معك يا فلانُ؟"، قال: كذا وكذا وسورةُ البقرة، قال:"اذهب فأنتَ أميرُهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وفد کو کسی مقصد کی خاطر بھیجا اور ان سے پوچھا: تمہیں کس کس کو کتنا قرآن یاد ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے سنتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ان سب سے کم عمر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے کتنا قرآن آتا ہے؟ اس نے بتایا کہ فلاں فلاں سورت ہے اور سورۃ بقرہ بھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ان کا امیر مقرر کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1639]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1639 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات غير عطاء - وهو مولى أبي أحمد - فلم يوثقه غير ابن حبان، ولم يرو عنه غير سعيد المقبري، وقال الذهبي في "الميزان" و "المغنى": لا يعرف، ثم إنَّ الليث بن سعد قد خالف عبد الحميد بن جعفر، فرواه عن سعيد المقبري عن عطاء عن النبي ﷺ مرسلًا، ورجح المرسل البخاري في "تاريخه" 6/ 462 وأبو حاتم والنسائي والدارقطني. إبراهيم بن عبد الله: هو السعدي، وأبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مخلد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں سوائے عطاء کے، جنہیں صرف ابن حبان نے ثقہ کہا ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: امام لیث بن سعد نے اس میں عبدالحمید بن جعفر کی مخالفت کی ہے اور اسے "مرسل" روایت کیا ہے۔ امام بخاری، ابوحاتم اور نسائی نے اسی مرسل روایت کو ترجیح دی ہے۔
وأخرجه بأطول مما هنا الترمذي (2876)، والنسائي (8696)، وابن حبان (2126) و (2578) من طرق عن عبد الحميد بن جعفر، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن، وقال النسائي: والمشهور مرسل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2876)، نسائی اور ابن حبان نے عبدالحمید بن جعفر کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن، جبکہ نسائی نے مرسل کو مشہور کہا ہے۔
وأخرجه بأطول مما هنا الترمذي بإثر الحديث (2876) عن قتيبة بن سعيد، عن الليث بن سعد، عن سعيد المقبري، عن عطاء مولى بني أحمد، عن النبي ﷺ مرسلًا. ¤ ¤ وانظر "علل ابن أبي حاتم" (827)، و "علل الدارقطني" (2053).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی نے قتیبہ بن سعید عن لیث بن سعد کے طریق سے عطاء کے واسطے سے مرسل روایت کیا ہے۔