المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. وَضْعُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ مَكَانَهُ عِنْدَ بِنَاءِ الْبَيْتِ
رسولُ اللہ ﷺ نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت حجرِ اسود کو اس کی جگہ پر رکھا۔
حدیث نمبر: 1701
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن السَّرِي، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبَّاد بن العوَّام، عن هلال بن خبَّاب، حدثنا مجاهد قال: قال لي مولاي عبدُ الله بنُ السائب: كنتُ فيمن بَنَى البيت، فأخذتُ حَجَرًا فسوَّيتُه، فوضعتُه إلى جنب البيت، قال: فكنتُ أعبدُه، فإن كان لَيَكونُ في البيت الشيءُ أبعثُ به إليه، حتى إذا كان يومًا لَبَنٌ طَيِّبٌ فبعثتُ به إليه، فصَبُّوه عليه. وإنَّ قريشًا اختلفوا في الحَجَر حين أرادوا أن يَضَعُوه، حتى كادَ أن يكون بينهم قتالٌ بالسيوف، فقالوا: اجعلوا بينَكم أوّلَ رجلٍ يدخل من الباب، فدخل رسولُ الله ﷺ، فقالوا: هذا الأمينُ، وكانوا يُسمُّونَه في الجاهلية الأمينَ، فقالوا: يا محمدُ، قد رَضِينا بك، فدعا بثوبٍ فبَسَطَه، ووَضَعَ الحجرَ فيه، ثم قال لهذا البَطْن ولهذا البَطْن - غير أنه سمى بُطونًا -:"ليأخُذْ كلُّ بطنٍ منكم بناحيةٍ من الثَّوب"، ففَعَلُوا، ثم رَفَعوه، وأخذه رسولُ الله ﷺ فَوَضَعَه بيده (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطه:
سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں بیت اللہ کی تعمیر کرنے والوں میں شامل تھا، میں نے ایک پتھر لیا، اسے برابر کیا اور بیت اللہ کے پہلو میں رکھ دیا، وہ کہتے ہیں کہ میں (زمانہ جاہلیت میں) اس کی پوجا کیا کرتا تھا، حتیٰ کہ اگر گھر میں کوئی عمدہ چیز ہوتی تو میں اسے اس کے پاس بھیج دیتا، یہاں تک کہ ایک دن میرے پاس اچھا دودھ تھا تو میں نے اسے اس پر بہا دیا۔ پھر جب قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو حجرِ اسود رکھنے کے معاملے پر ان میں اختلاف ہو گیا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ان کے درمیان تلواریں چل جاتیں، پھر انہوں نے کہا کہ اپنے درمیان اس پہلے شخص کو (فیصل) بنا لو جو اس دروازے سے داخل ہوگا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو وہ پکار اٹھے کہ یہ تو ”الامین“ ہیں (اور جاہلیت میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو الامین ہی کہتے تھے)۔ انہوں نے کہا: اے محمد! ہم آپ پر راضی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا منگوایا، اسے بچھایا اور اس میں حجرِ اسود رکھ دیا، پھر ان مختلف قبائل سے فرمایا: ”تم میں سے ہر قبیلہ کپڑے کا ایک گوشہ پکڑ لے“، تو انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر انہوں نے اسے بلند کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے اسے (مقامِ مخصوص پر) رکھ دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ نیز اس کا ایک صحیح شاہد بھی ان کی شرط پر موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1701]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ نیز اس کا ایک صحیح شاہد بھی ان کی شرط پر موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات غير أنَّ هلال بن خباب قد تغيَّر بأخرة، وأخطأ هنا في تسمية الصحابي، فجعله عبد الله بن السائب، وعبد الله بن السائب هذا يصغر عن إدراك بناء الكعبة في الجاهلية، وإنما الذي أدركها هو أبوه السائب، فقد كان شريكًا للنبي ﷺ قبل البعثة، وعُمِّر إلى أن ...» [ترقيم الرساله 1701] [ترقيم الشركة 1689]
الحكم على الحديث: حديث صحيح