المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. فَضِيلَةُ الْحَجِّ مَاشِيًا
پیدل حج کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1710
حدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا محمد بن الحسين بن حفص الخَثْعَمي، حدثنا علي بن سعيد بن مسروق الكِنْدي، حدثنا عيسى بن سَوَادةَ، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن زاذانَ قال: مَرِضَ ابن عباس مرضًا شديدًا، فدعا وَلَدَه فجمعهم، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن حَجَّ من مكةَ ماشيًا حتى يَرجِعَ إلى مكة، كَتَبَ الله له بكلِّ خُطْوةٍ سبعَ مئة حسنةٍ، كلُّ حسنةٍ مثلُ حَسَنات الحَرَم"، قيل: وما حَسَناتُ الحَرَم؟ قال:"بكلِّ حسنةٍ مئةُ ألفِ حَسَنة" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا زاذان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما شدید بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے تمام بچوں کو بلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا: جو شخص مکہ سے پیدل حج کو جائے اور پیدل ہی واپس آئے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم کے بدلے سات سو نیکیاں لکھتا ہے۔ ان میں سے ہر نیکی حرم کی نیکیوں کے برابر ہو گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: حرم کی نیکی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہر نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکی کا ثواب ملتا ہے۔ تبصری: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1710]
حدیث نمبر: 1711
أخبرنا أحمد بن محمد بن جعفر الجُلُودي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا أبو قُرَّةَ، عن موسى بن عُقْبة، عن نافع، عن ابن عمرَ قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا كانَ قبلَ التَّرويةِ بيومٍ خَطَبَ الناسَ، فأخبَرَهم بمناسِكِهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم ترویہ (8 ذی الحج) سے ایک دن پہلے (یعنی 7 ذی الحج کو) لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے اور انہیں مناسکِ حج سکھایا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1711]
حدیث نمبر: 1712
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا الأسود بن عامر، حدثنا أبو كُدَينةَ يحيى بن المُهلَّب البَجَلي، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ صلَّى خمسَ صلواتٍ بمِنًى (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 5 نمازیں منٰی میں ادا کیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1712]
حدیث نمبر: 1713
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن الزُّبير قال: من سُنَّةِ الحجِّ أن يُصلِّي الإمامُ الظُّهرَ والعصرَ والمغربَ والعِشاءَ الآخرةَ والصُّبحَ بمنًى، ثم يَغدُوَ إلى عَرَفةَ، فيَقيلَ حيثُ قُضِي له، حتى إذا زالت الشمسُ خَطَبَ الناسَ، ثم صلَّى الظُّهرَ والعصرَ جميعًا، ثم وَقَفَ بعرفاتٍ حتى تَغيبَ الشمسُ، ثم يُفيض فيصلِّي بالمُزدلِفَةِ أو حيثُ قَضَى الله، ثم يقفُ بجَمْعٍ، حتى [إذا] أسفَرَ دَفَعَ قبلَ طُلوع الشمس، فإذا رَمَى الجمرةَ الكُبرى حلَّ له كلُّ شيءٍ حَرُمَ عليه إلَّا النساءَ والطِّيبَ حتى يَزورَ البيت (1) .
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج کا طریقہ یہ ہے کہ امام ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز منٰی میں پڑھے، پھر صبح سویرے عرفات کی طرف چلا جائے پھر اس کے لیے اللہ کا جو فیصلہ ہو گا، اس کے مطابق اس کی عبادات قبول کی جائیں گی۔ یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جائے، تو وہ لوگوں کو خطبہ دے، پھر ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھے، پھر غروب آفتاب تک عرفات میں ٹھہرا رہے۔ (سورج غروب ہونے کے بعد) وہاں سے (مزدلفہ کی طرف) نکل جائے اور مزدلفہ میں جا کر نماز ادا کرے یا جہاں اللہ فیصلہ کرے۔ پھر صبح تک وہاں ٹھہرا رہے۔ اور طلوع آفتاب سے پہلے اس (وقوف) کو ختم کر دے پھر جب بڑے شیطان کو کنکریاں مار لے تو عورت اور خوشبو کے علاوہ ہر وہ چیز اس پر حلال ہو جائے گی (جو حالتِ احرام میں) حرام تھی۔ یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کی زیارت کر لے (کہ اس کے بعد عورت اور خوشبو بھی حلال ہو جاتی ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1713]