🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. الْوُقُوفُ بِعَرَفَاتٍ
عرفات میں وقوف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1714
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أبو بَكْرةَ بكَّارُ بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذُباب، عن مجاهد، عن عبد الله بن سَخْبَرةَ قال: غَدَوتُ مع عبد الله بن مسعودٍ من مِنى إلى عَرَفةَ، وكان عبد الله رجلًا آدمَ له ضَفِيرتانِ، عليه مَسْحةُ أهل البادية، وكان يُلبِّي، فاجتمع عليه غَوْغاءٌ من غَوْغاءِ الناس فقالوا: يا أعرابيُّ، إنَّ هذا ليس بيومِ تلبيةٍ، إنَّما هو التكبير، قال: فعند ذلك التَفَتَ إليَّ فقال: جَهِلَ الناسُ أم نَسُوا؟ والذي بَعَثَ محمدًا ﷺ بالحق، لقد خرجتُ مع رسول الله ﷺ من مِنى إلى عَرَفةَ، فما تَرَكَ التلبيةَ حتى رَمَى الجَمْرةَ، إلَّا أن يَخلِطَها بتكبيرٍ أو تهليلٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن سخبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صبح کے وقت منٰی کی طرف نکلا، عبداللہ گندم گوں آدمی تھے، وہ بالوں کی دو چوٹیاں رکھتے تھے جو کہ ان کے اوپر دیہاتیوں کی نشانی ہوتی تھی۔ وہ مسلسل تلبیہ کہہ رہے تھے۔ (یہ سن کر بہت سارے) لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: اے بدو! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے۔ آج تو تکبیرات کا دن ہے۔ عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں: اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: یہ لوگ جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منٰی سے عرفات کی طرف نکلا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہا: تاہم اس کے ساتھ ساتھ تکبیر یا تہلیل بھی پڑھتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1714]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1715
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سيّار، حدّثنا محمد بن كَثير، حدّثنا سفيان بن عُيينة، عن زياد بن سعد، عن أبي الزُّبير، عن أبي مَعبَد (1) ، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ارفَعوا عن بَطْنِ عُرَنةَ، وارفَعوا عن بَطْنِ مُحسِّر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده على شرط الشيخين صحيحٌ، إلَّا أنَّ فيه تقصيرًا في سنده:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بطن عرنہ میں قیام نہ کرو اور بطن محسر میں بھی نہ کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد ہے۔ جو کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر ہے تاہم اس کی سند میں کچھ کمی ہے۔ (وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1715]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1716
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جُرَيج، أخبرني عطاء، عن ابن عباس قال: كان يقال: ارتفِعوا عن مُحسِّر، وارتفِعوا عن عُرَنات. أما قوله: العُرَنات، فالوقوفُ بعَرَفةَ: أنْ لا تَقِفوا بعُرَنة، وأما قوله: عن مُحسِّر، فالنزول بجَمْعٍ: أنْ لا يَنزلوا مُحسِّرًا (3) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ تاکید کی جاتی تھی کہ وادی محسر سے آگے گزر جاؤ اور عرفات سے بھی آگے چلے جاؤ۔ ٭٭ مذکورہ حدیث میں عرنات سے مراد وادی عرنہ میں ٹھہرنا ہے۔ مطلب یہ ہے: وقوفِ عرفات کے دوران مقام عرنہ (جو کہ عرفات کے سامنے ایک وادی کا نام ہے) میں مت جاؤ۔ اور محسر سے آگے گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ وقوف مزدلفہ کے دوران وادی محسر میں نہ جاؤ۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1716]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1717
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان. وحدثني علي بن عيسى - واللفظ له - حدّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان قال: حفظتُه من عمرو بن دينار، عن عمرو بن عبد الله بن صفوان، عن خاله يزيد بن شَيْبان قال: كنّا وقوفًا من وراء المَوقِف - موقفًا يتباعدُه عمرٌو من الإمام - فأتانا ابنُ مِرْبَع الأنصاريُّ فقال: إنِّي رسولُ رسولِ الله ﷺ إليكم، يقول لكم:"كونوا على مَشَاعرِكم هذه، فإنَّكم على إرْثٍ من إرْثِ إبراهيم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا یزید بن شعبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم موقف سے پیچھے ایک ایسے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے جہاں سے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ امام سے کافی دور تھے، ہمارے پاس ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفیر بن کر آیا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے پیغام بھیجا ہے کہ تم اپنے ادائیگیٔ حج کے مقام پر رہو کیونکہ تم ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پانے والے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1717]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں