🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. مَا كَرِهَ مِنَ الْأَضَاحِي وَالْبُدْنِ
قربانی اور اونٹ کی قربانی میں ناپسندیدہ امور کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1736
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا شعبة. وأخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد بن هارون وزيد بن الحُبَاب، عن شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، وحدثنا يحيى بن سعيد، وحدثنا أبو داود؛ قالوا: حدثنا شعبة - وهذا لفظُ حديث أبي العباس - قال: سمعتُ سليمان بنَ عبد الرحمن يقول: سمعتُ عُبيدَ بن فَيْروزَ يقول: قلت للبراء: حدِّثْني عمَّا كَرِهَ أو نَهَى عنه رسولُ الله ﷺ من الأضاحيِّ، قال: فقال رسولُ الله ﷺ هكذا بيدِه - ويدي أقصرُ من يدِ رسول الله ﷺ:"أربعٌ لا يُجْزِئنَ في الأضاحيِّ: العَوْراءُ البيِّنُ عَوَرُها، والمريضةُ البيِّنُ مَرَضُها، والعَرْجاءُ البيِّنُ عَرَجُها، والكَسِيرُ التي لا تُنْقي". قال: فإنِّي أكرَهُ أن يكون نَقْصٌ في الأُذُن والقَرْن، قال: فما كَرِهتَ فَدَعْهُ ولا تُحرِّمه على غيرك (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه لعلّة (1) روايات سليمان بن عبد الرحمن، وقد أظهر عليُّ بن المَديني فضائلَه وإتقانَه. ولهذا الحديث شواهد متفرقة بأسانيد صحيحة ولم يخرجوها، فمنها:
سیدنا عبید بن فیروز رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے بتائیے کہ قربانی کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی چیزوں کو ناپسند کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یوں (اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا: (جبکہ میرا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے)۔ چار (طرح کے جانور) کی قربانی جائز نہیں: (1) ایسا بھینگا جس کا بھینگا پن صاف ظاہر ہو۔ (2) اتنا بیمار جس کی بیماری بالکل واضح ہو۔ (3) ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔ (4) اور اتنا لاغر کہ اس کی ہڈیوں کا گودا باقی نہ رہا ہو۔ عبید بن فیروز فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں تو کان اور سینگ کے نقص کو بھی پسند نہیں کرتا ہوں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چیز آپ کو پسند نہیں ہے اس کو آپ خود چھوڑ دیں لیکن دوسروں پر اس کو حرام قرار نہ دیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے سلیمان بن عبدالرحمن کی روایات کم ہونے کی وجہ سے اس کو نقل نہیں کیا۔ حالانکہ علی بن المدینی نے ان کے فضائل اور ان کی ذہنی پختگی بیان کی ہے۔ اور اس حدیث کے متفرق صحیح اسانید کے ہمراہ شواہد بھی موجود ہیں لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1736]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1737
ما حدَّثَناه عليُّ بن حَمْشاذَ العدل وعبدُ الله بن الحسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا رَوْحُ بن عُبادة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عفان. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي؛ قالوا: حدثنا شعبة، عن قتادةَ قال: سمعتُ جُرَيَّ بن كُلَيب النَّهْدي يحدِّث عن عليٍّ: أنَّ نبيَّ الله ﷺ نَهَى أن يُضحَّى بأعْضَبِ القُرونِ والأُذُن. قال قتادة: فذكرتُ ذلك لسعيد بن المسيّب فقال: العَضَبُ: النِّصفُ فما فوقَ ذلك (2) . ومنها:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے ہوئے سینگ اور کٹے ہوئے کان والے جانور کی قربانی کرنے سے منع کیا ہے۔ ٭٭ قتادہ فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کا تذکرہ سعید بن مسیّب سے کیا تو انہوں نے کہا: اس حدیث میں کٹے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے سے مراد آدھا یا اس سے زیادہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1737]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1738
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبيد الله بن أبي داود المُنادي، حدثنا وهب بن جَرير وأبو النَّضر، قالا: حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، أنَّ سَلَمةَ بن كُهَيل أخبره، قال: سمعتُ حُجَيَّةَ بنَ عَديٍّ الكِنْدِي يقول: سمعتُ عليًّا يقول: أَمَرَنا رسولُ الله ﷺ أَن نَستَشرِفَ العينَ والأُذُنَ (1) . ومنها:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ قربانی کا جانور خریدتے وقت اس کے کان اور آنکھوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کر لیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1738]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1739
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبيد الله المُنادِي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن حُجَيّةَ بن عَدِيٍّ: أنَّ رجلًا سأل عليًّا عن البقرة، فقال: عن سبعةٍ. قال: القَرْن؟ (1) قال: العَرَج؟ قال: إذا بَلَغَت المناسكَ، قال: وكان رسولُ الله ﷺ أَمَرَنا أن نَستشرِفَ العينَ والأُذُن (2) . ومنها:
سیدنا حجیہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کے متعلق پوچھا: (کہ اس کی قربانی کتنے لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے) آپ نے فرمایا: سات (آدمیوں کی طرف سے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ قربانی کے جانور خریدتے وقت اس کے کان اور آنکھوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کر لیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1739]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1740
ما حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى التِّنِّيسي، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، حدثنا صَدَقة بن عبد الله الدمشقي، عن ثَوْر بن يزيد، عن أبي حُمَيد الرُّعَينيِّ قال: كنّا جُلوسًا إلى عُتبةَ بن عبدٍ السُّلَمي، فأقبل يزيدُ ذو مِصْرٍ المُقْرائي فقال لعُتبة: يا أبا الوليد، إنّا خرجنا آنفًا في التِمَاسِ جَدْيِ نُسُكٍ، فلم نَكَدْ نجدُ شيئًا يُنْقِى غيرَ أنِّي وجدتُ ثَرْماءَ سمينةً، فقال عتبة: فلوما جئتَنا بها، فقال: اللهم غُفْرًا، أتجوزُ عنكَ ولا تجوز عنِّي؟ قال: نعم، قال: إنَّك تشُكُّ ولا أَشكُّ، قال: ثم أخرج عتبةُ يدَه فقال: إنَّما نَهَى رسولُ الله ﷺ عن خمسٍ: عن المُؤصَلَة والمُصْفَرَة والبَخْقاء والكَسْراء والمُشَيِّعة. قال: والمُؤصَلَةُ: المستأصَلَة قَرْنُها، والمُصْفَرَة: المستأصَلَة أُذُنها (1) ، والبَخْقاء: البيِّنُ عَوَرُها (2) ، والمُشيِّعة (3) : المهزولة أو المريضة التي لا تَتْبعُ الغنمَ (4) .
سیدنا ابوحمید رعینی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم عتبہ بن عبد سلمی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں مصر والے یزید المقرائی آ گئے، انہوں نے عتبہ سے کہا: اے ابوالولید! ہم ابھی قربانی کے جانور خریدنے نکلے تھے، ہمیں ایک ٹوٹے ہوئے دانتوں والے جانور کے سوا اور کوئی جانور نہیں ملا۔ عتبہ نے کہا: اگر تم اس کو میرے پاس لے آتے تو کتنا ہی اچھا ہوتا، یزید نے جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے! کیا وہ تمہاری طرف سے جائز ہے اور ہماری طرف سے ناجائز ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ یزید نے کہا: کیوں؟ عتبہ نے کہا: تم شک کرتے ہو اور مجھے نہیں ہے۔ ابوحمید فرماتے ہیں: پھر عتبہ نے اپنا ہاتھ نکالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ جانوروں سے منع کیا ہے: (1) موصلہ (2) مصفرہ (3) بخقاء (4) مشیعہ (5) کسراء۔ عتبہ فرماتے ہیں: موصلہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے سینگ جڑ سے کٹے ہوئے ہوں۔ مصفرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان جڑ سے کٹے ہوئے ہوں۔ بخقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کا بھینگا پن بالکل واضح ہو۔ مشیعہ ایسے کمزور یا بیمار کو کہتے ہیں جو ریوڑ کے ساتھ ساتھ نہ چل سکے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1740]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1741
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا أحمد بن صالح، حدثني ابن أبي فُدَيك، حدثني الضَّحَّاك بن عثمان، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشةَ قالت: أرسَلَ رسولُ الله ﷺ بأُمِّ سَلَمة ليلةَ النَّحْر، فرَمَتِ الجَمْرة قبل الفجر، ثم مَضَتْ فأفاضت، وكان ذلك يومَ الثاني الذي يكونُ عندها رسولُ الله ﷺ (5) . صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کو قربانی والی رات رمی کرنے کے لیے بھیجا تو انہوں نے فجر سے پہلے رمی کی۔ پھر آپ رمی مکمل کرنے کے بعد واپس چلی گئیں۔ ام المومنین سیدنا اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا یہ دوسرا دن تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1741]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں