المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
52. ما كره من الأضاحي والبدن
قربانی اور اونٹ کی قربانی میں ناپسندیدہ امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 1740
ما حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى التِّنِّيسي، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، حدثنا صَدَقة بن عبد الله الدمشقي، عن ثَوْر بن يزيد، عن أبي حُمَيد الرُّعَينيِّ قال: كنّا جُلوسًا إلى عُتبةَ بن عبدٍ السُّلَمي، فأقبل يزيدُ ذو مِصْرٍ المُقْرائي فقال لعُتبة: يا أبا الوليد، إنّا خرجنا آنفًا في التِمَاسِ جَدْيِ نُسُكٍ، فلم نَكَدْ نجدُ شيئًا يُنْقِى غيرَ أنِّي وجدتُ ثَرْماءَ سمينةً، فقال عتبة: فلوما جئتَنا بها، فقال: اللهم غُفْرًا، أتجوزُ عنكَ ولا تجوز عنِّي؟ قال: نعم، قال: إنَّك تشُكُّ ولا أَشكُّ، قال: ثم أخرج عتبةُ يدَه فقال: إنَّما نَهَى رسولُ الله ﷺ عن خمسٍ: عن المُؤصَلَة والمُصْفَرَة والبَخْقاء والكَسْراء والمُشَيِّعة. قال: والمُؤصَلَةُ: المستأصَلَة قَرْنُها، والمُصْفَرَة: المستأصَلَة أُذُنها (1) ، والبَخْقاء: البيِّنُ عَوَرُها (2) ، والمُشيِّعة (3) : المهزولة أو المريضة التي لا تَتْبعُ الغنمَ (4) .
سیدنا ابوحمید رعینی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم عتبہ بن عبد سلمی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں مصر والے یزید المقرائی آ گئے، انہوں نے عتبہ سے کہا: اے ابوالولید! ہم ابھی قربانی کے جانور خریدنے نکلے تھے، ہمیں ایک ٹوٹے ہوئے دانتوں والے جانور کے سوا اور کوئی جانور نہیں ملا۔ عتبہ نے کہا: اگر تم اس کو میرے پاس لے آتے تو کتنا ہی اچھا ہوتا، یزید نے جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے! کیا وہ تمہاری طرف سے جائز ہے اور ہماری طرف سے ناجائز ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ یزید نے کہا: کیوں؟ عتبہ نے کہا: تم شک کرتے ہو اور مجھے نہیں ہے۔ ابوحمید فرماتے ہیں: پھر عتبہ نے اپنا ہاتھ نکالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ جانوروں سے منع کیا ہے: (1) موصلہ (2) مصفرہ (3) بخقاء (4) مشیعہ (5) کسراء۔ عتبہ فرماتے ہیں: موصلہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے سینگ جڑ سے کٹے ہوئے ہوں۔ مصفرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان جڑ سے کٹے ہوئے ہوں۔ بخقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کا بھینگا پن بالکل واضح ہو۔ مشیعہ ایسے کمزور یا بیمار کو کہتے ہیں جو ریوڑ کے ساتھ ساتھ نہ چل سکے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1740]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1740 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قال الخطابي: وأُراها سميت مُصْفَرة لأنَّ صِمَاخَيها قد صَفِرا من الأذنين، أي: خَلَوا، يقال: صَفِر الوعاءُ: إذا خلا.
📝 توضیح: علامہ خطابی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ اسے "مُصْفَرہ" اس لیے کہا گیا کیونکہ اس کے کانوں کے سوراخ کان (کے کٹ جانے) سے خالی ہو گئے ہیں۔ جب برتن خالی ہو جائے تو کہا جاتا ہے: "صَفِرَ الوعاء"۔
(2) أي: قد بُخِقَت عينها.
📝 توضیح: اس کا مطلب ہے جس کی آنکھ پھوٹ گئی ہو۔
(3) المشيّعة بكسر الياء المشددة، قال الخطابي في "غريب الحديث": أي التي لا تزال تتبع الغنم عَجَفًا، يريد أنها لا تلحق الغنم، فهي أبدًا تشيِّعها، أي تكون من وراء القطيع. انتهى، وقال ابن الأثير في "النهاية": وإن فتحتها - يعني الياء - فلأنها تحتاج إلى من يُشيِّعُها: أي يسوقها لتأخرها عن الغنم.
📝 توضیح: "المُشيَّعة" (یا کے زیر کے ساتھ) سے مراد وہ کمزور جانور ہے جو ہمیشہ ریوڑ کے پیچھے چلتا ہے اور اس کے ساتھ مل نہیں پاتا۔ ابن الاثیر کے مطابق اگر یا پر زبر ہو تو اس کا مطلب ہے جسے ہانکنے والے (شیعہ) کی ضرورت ہو کیونکہ وہ سستی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتا ہے۔
(4) إسناده ضعيف، صدقة بن عبد الله ضعيف، وأبو حميد الرعيني ويزيد ذو مصر مجهولان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ صدقہ بن عبداللہ ضعیف راوی ہے، جبکہ ابوحمید الرعینی اور یزید ذو مصر "مجہول" (نامعلوم حال) ہیں۔
وسيأتي عند المصنف برقم (7727) من طريق عيسى بن يونس عن ثور بن يزيد.
🔁 تکرار: یہ روایت مصنف کے ہاں آگے نمبر (7727) پر عیسیٰ بن یونس عن ثور بن یزید کے طریق سے آئے گی۔
ويأتي تخريجه هناك.
🔍 ہدایت: اس کی تخریج وہیں ملاحظہ فرمائیں۔