🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
نبی ﷺ نے کتنے حج کیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1746
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم ابن يونس العصّار (1) ، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث، حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مُسافِر، عن ابن شهاب، عن أبي سِنان الدُّؤلي، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يا قومِ، كُتِبَ عليكم الحَجُّ"، فقال الأقرع بن حابس: أَكُلَّ عامٍ يا رسولَ الله؟ فصَمَتَ رسولُ الله ﷺ، ثم قال:"لا، بل حَجَّةٌ واحدةٌ، ثم مَن حَجَّ بعدَ ذلك فهو تطوُّعٌ، ولو قلتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ عليكم، ثم إذًا لا تَسمَعونَ ولا تُطيعون" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قوم! تم پر حج فرض کیا گیا ہے۔ تو سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر سال (حج فرض ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ زندگی بھر میں صرف ایک بار حج فرض ہے پھر اس کے بعد جو حج کیا جائے گا، وہ نفلی ہو گا، اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج) فرض ہو جاتا لیکن پھر تم اس کی ادائیگی نہ کر پاتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1746]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1747
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسماعيل بن مُسلِم، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: الحجُّ والعُمرةُ فريضَتانِ على الناس كلِّهم إلَّا أهلَ مكةَ، فإنَّ عُمرتَهم طوافُهُم، فليَخرُجوا إلى التَّنعيم ثم لْيدخُلوها، فوالله ما دَخَلَها رسولُ الله ﷺ إلَّا حاجًّا أو مُعتمِرًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد أُسنِد عن محمد بن كثير بإسنادٍ آخر:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج اور عمرہ دونوں اہل مکہ کے سوا تمام لوگوں پر فرض ہے کیونکہ اہل مکہ کا طواف ہی عمرہ ہے، ان کو چاہیے کہ مقام تنعیم کی طرف نکل جائیں پھر وہاں سے داخل ہوں، کیونکہ خدا کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے صرف حج اور عمرہ کرنے کے لیے ہی داخل ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور محمد بن کثیر نے اس حدیث کو ایک دوسری اسناد کے ہمراہ مسند بھی کیا ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1747]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں