المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
56. الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ فَرِيضَتَانِ
حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔
حدیث نمبر: 1748
حدَّثَناه الأستاذ الإمام أبو الوليد ﵀ حدثنا محمد بن المنذر الهَرَوي، حدثنا أبو يحيى محمد بن سعيد بن غالب، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسماعيل بن مُسلِم، عن محمد بن سِيرين، عن زيد بن ثابتٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الحجَّ والعمرةَ فريضتانِ لا يَضرُّك بأيِّهما بدأتَ" (1) . والصحيح عن زيد بن ثابت قولَه:
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک حج اور عمرہ دو فرائض ہیں، تم ان میں سے جس سے بھی پہلے آغاز کر لو اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں۔“ اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ کلام سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اپنا قول (موقوف) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1748]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كسابقه، ومحمد بن المنذر الهروي، قال أبو حاتم: مجهول، وذكره ابن حبان في "الثقات" وقال: يخطئ أحيانًا. قلنا: وقد توبع. قال البيهقي: الصحيح موقوف.» [ترقيم الرساله 1748] [ترقيم الشركة 1736]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1749
حدَّثَناه أبو الوليد، حدثنا محمد بن نُعيم، حدثنا يحيى بن أيوب المَقابِري، حدثنا عبّاد بن عبّاد المُهلَّبي، حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرين: أنَّ زيد بن ثابتٍ سُئِل عن العُمرة قبل الحَجِّ، قال: صلاتانِ لا يَضرُّك بأيِّهما بدأتَ (1) .
سیدنا محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ دو نمازوں کی طرح ہیں، تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم جس سے بھی پہلے ابتدا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث: «صحيح من قول زيد بن ثابت، رجاله ثقات، لكن في سماع محمد بن سيرين من زيد بن ثابت خلاف، فقد روى الخطيب في "تاريخه" 3/ 283 أنه دخل على زيد بن ثابت، وقال الحافظ ابن حجر في "التلخيص الحبير" 2/ 225 في معرض حديثه على الإسناد المرفوع منه: هو عن ...» [ترقيم الرساله 1749] [ترقيم الشركة 1737]
الحكم على الحديث: صحيح من قول زيد بن ثابت
حدیث نمبر: 1750
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، أخبرنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، وعبد المجيد بن عبد العزيز، عن ابن جُريج قال: أخبَرَني نافع مولى ابن عمر: أَنَّ عبد الله بن عمر كان يقول: ليس من خَلْقِ اللهِ أحدٌ إِلَّا عليه حَجَّةٌ وعُمرةٌ واجبتانِ مَن استطاع إلى ذلك سبيلًا، فمَن زادَ بعدها شيئًا فهو خيرٌ وتطوُّع. قال ابن جريج (1) : وأُخبِرتُ عن ابن عباسٍ أنه قال: العُمرةُ واجبةٌ كوُجوب الحجِّ مَن استطاع إليه سبيلًا (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: اللہ کی مخلوق میں سے ہر اس شخص پر جس کے پاس استطاعت ہو، ایک حج اور ایک عمرہ واجب ہے، پھر اس کے بعد جو بھی عمل کرے وہ خیر اور نفل ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت پہنچی کہ انہوں نے فرمایا: عمرہ بھی اسی طرح واجب ہے جیسے حج واجب ہے بشرطیکہ استطاعت ہو۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1750]
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1750]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وإبراهيم بن موسى: هو الرازي، وهشام بن يوسف: هو الصنعاني، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.» [ترقيم الرساله 1750] [ترقيم الشركة 1738]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح