🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. الشُّرْبُ مِنْ زَمْزَمَ وَآدَابُهُ
زمزم کا پانی پینے اور اس کے آداب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1756
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أحمد بن يحيى، حدثنا محمد بن الصبَّاح، حدثنا إسماعيل بن زكريا، عن عثمان بن الأسوَد، قال: جاء رجلٌ إلى ابن عباسٍ، فقال له: من أين جئتَ؟ فقال: شربتُ من زمزم، فقال له ابن عباس: أشربتَ منها كما ينبغي؟ قال: وكيف ذاك يا أبا عباس؟ قال: إذا شربتَ منها فاستقبِلِ القِبلةَ، واذكُر اسمَ الله، وتنفَّسْ ثلاثًا، وتضلَّعْ منها، وإذا فرغتَ فاحمَدِ الله، فإنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"آيةٌ بينَنا وبينَ المنافقين أنَّهم لا يَتضلَّعون من زمزمَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إن كان عثمان بن الأَسوَد سَمِع من ابن عباس (2) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: میں نے زمزم کا پانی پیا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم نے اسے ویسے پیا جیسا پینے کا حق ہے؟ اس نے پوچھا: اے ابوعباس! وہ کیسے؟ انہوں نے فرمایا: جب تم اسے پیو تو قبلہ رخ ہو جاؤ، اللہ کا نام لو، تین سانسوں میں پیو، خوب پیٹ بھر کر پیو، اور جب فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد بیان کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقین کے درمیان نشانی یہ ہے کہ وہ زمزم کا پانی پیٹ بھر کر نہیں پیتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اگر عثمان بن اسود کا سماع ابن عباس سے ثابت ہو، اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، وهذا إسناد سقط منه الواسطة بين عثمان بن الأسود وابن عباس في رواية "المستدرك" هذه، وهو ابن أبي مليكة، فقد أثبته البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 147 حيث رواه عن الحاكم نفسه بإسناده ومتنه. وقد اضطرب الرواة عن عثمان بن الأسود في تسمية ابن أبي مليكة، فسماه بعضهم: ...» [ترقيم الرساله 1756] [ترقيم الشركة 1744]

الحكم على الحديث: حديث ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں