المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
65. يُرْفَعُ مَا يُقْبَلُ مِنْ أَحْجَارِ الرَّمْيِ
رمی کی کنکریوں میں سے جو قبول ہوتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 1771
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المُستَمْلي، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُمَوي، حدثنا أبي، حدثنا يزيد بن سِنَان [عن زَيد بن أبي أُنَيسة] (2) عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخُدْري، عن أبيه أبي سعيدٍ قال: قلنا: يا رسولَ الله، هذه الأحجارُ التي نَرمِي بها تُحمَلُ فنَحسِبُ أنها تَنقَعِرُ، قال:"إنَّه ما تُقُبِّلَ منها يُرفَع، ولولا ذلك لرأيتَها مثلَ الجبال" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ويزيد بن سنان ليس بالمتروك.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ويزيد بن سنان ليس بالمتروك.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کنکریاں جنہیں ہم (جمرات پر) مارتے ہیں، وہ وہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں، ہمارا خیال ہے کہ وہ کم ہو جاتی ہوں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ جن کو قبول کر لیا جاتا ہے انہیں اٹھا لیا جاتا ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تم انہیں پہاڑوں کی طرح (جمع) دیکھتے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یزید بن سنان متروک راوی نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1771]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یزید بن سنان متروک راوی نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1771]
تخریج الحدیث: «الصحيح موقوفًا، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن سنان، وهو أبو فروة الرهاوي، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 1771] [ترقيم الشركة 1758]
الحكم على الحديث: الصحيح موقوفًا