المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
66. إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ حَجَّهُ فَلْيُعَجِّلِ الرِّحْلَةَ إِلَى أَهْلِهِ
جب تم میں سے کوئی اپنا حج مکمل کر لے تو اپنے گھر والوں کی طرف جلد روانہ ہو۔
حدیث نمبر: 1772
حدثنا أبو الطيِّب محمد بن أحمد الذُّهْلي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نصر الحافظ، حدثنا أبو مروان محمد بن عثمان العثماني، حدثنا أبو ضَمْرةَ اللَّيثي، عن هشام بن عُرْوة، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"إذا قَضَى أحدُكم حَجَّه فليُعَجِّلِ الرِّحلةَ إلى أهلِه، فإنَّه أعظمُ لأجْرِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حج پورا کر لے وہ اپنے گھر والوں کے پاس آ جائے۔ کیونکہ اس میں اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1772]
حدیث نمبر: 1773
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار. وأخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغَزَّال؛ قالا: حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا أبو حمزة، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباسٍ قال: جاء جبريلُ إلى رسول الله ﷺ، فَذَهَبَ به ليُرِيَه المناسكَ، فانفَرَجَ له ثَبِيرٌ، فدخل منًى، فأراه الجِمَار، ثم أراه جَمْعًا، ثم أراه عرفاتٍ، فنَبَعَ الشيطانُ للنبيِّ ﷺ عند الجَمْرة، فرَمَى بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ، ثم نَبَغَ له في الجَمْرة الثانية، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ، ثم نَبَغَ له في جَمْرة العَقَبة، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخَ فذهب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام اللہ کے رسول (سیدنا ابراہیم) کے پاس آئے اور ان کو مناسک حج دکھانے کے لیے اپنے ساتھ لے گئے تو نرم زمین ان کے لیے کھل گئی، وہ منٰی میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرات دکھائے پھر ان کو میدان عرفات دکھایا، پھر جمرہ کے پاس شیطان نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ورغلانے کی کوشش کی، انہوں نے اس کو سات کنکریاں ماریں، جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد دوسرے جمرہ کے پاس بھی شیطان نے وہی حرکت کی، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے پھر اس کو سات کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنس گیا پھر تیسری مرتبہ جمرہ عقبہ کے پاس شیطان نے وہی حرکت کی، انہوں نے پھر اس کو سات کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنس گیا پھر وہ چلا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1773]
حدیث نمبر: 1774
حدثنا أبو سعيد محمد بن جعفر الخَصِيب الصُّوفي، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا العلاء بن عمرو الحنفي ومحمد بن العلاء الهَمْداني، قالا: حدثنا حُمَيد [بن] الخُوَار، حدثنا ابن جُرَيج، عن عطاءٍ، قال: لا أَرمي حتى تَزِيغَ الشمسُ، إنَّ جابر بن عبد الله قال: كان رسولُ الله ﷺ يَرمي يومَ النَّحْر قبلَ الزَّوال، فأما بعدَ ذلك فعندَ الزَّوالِ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عطاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں زوال سے پہلے رمی نہیں کرتا ہوں، بیشک سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن زوال سے پہلے اور اس کے بعد والے دنوں میں زوال کے وقت رمی کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1774]