🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. حَجُّ الْأَجِيرِ
مزدور/اجرت پر کام کرنے والے کے حج کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1790
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة، حدثنا علي بن المبارك الصَّنعاني، حدثنا زيد بن المبارك الصَّنعاني، حدثنا مَعْمَر بن راشد الصَّنعاني، عن عبد الكريم الجَزَري، عن سعيد بن جُبَير قال: أتى رجلٌ ابنَ عباس فقال: إني آجَرْتُ نفسي من قوم، فتركتُ لهم بعض أجري ليُخَلُّوا بيني وبين المناسك، فهل يُجزئ ذلك عنِّي؟ فقال ابن عباس: هذا من الذين قال الله ﷿: ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [البقرة: 202] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک قبیلے کا اجرت پر کام کرتا ہوں، میں نے ان کو اپنی کچھ اجرت اس غرض سے چھوڑ دی ہے تاکہ وہ مجھے حج کرنے کی اجازت دے دیں۔ کیا میرے لیے یہ جائز ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اولئک لھم نصیب مماکسبوا واللّٰہ سریعُ الحساب یہی ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1790]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1791
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن عطاء، عن عُبيد بن عُمير، عن ابن عباس: أنَّ الناس كانوا في أوّل الحج يتبايعون بمِنًى وعَرَفةَ وسوق ذي المَجَاز ومواسم الحج، فخافوا البيعَ وهم حُرُم، فأنزل الله ﷿: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] في مَوَاسم الحَجّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ حج کے موسم میں حج سے پہلے منٰی، عرفہ، او ذی المجاز بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے، ان کو حالت احرام میں خرید و فروخت سے پریشانی ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربّکم (البقرۃ: 198) تم پر کچھ گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو یعنی حج کے ایام میں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1791]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1792
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبد الله بن الحسن الحَرّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن ابن إسحاق، حدثنا عبد الله بن أبي بَكْر بن محمد بن عمرو بن حَزْم الأنصاري، عن عثمان بن أبي سليمان بن جُبَير بن مُطْعِم، عن عمِّه نافع بن جُبَير، عن أبيه جُبَير بن مُطْعِم قال: لقد رأيتُ رسولَ الله ﷺ قبلَ أن يُنزَل عليه، وإنَّه لَوَاقفٌ على بعيرٍ له بعرفاتٍ مع الناس يَدْفَعُ معهم منها، وما ذاكَ إلَّا توفيقٌ من الله ﷿ له (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نزول قرآن سے پہلے لوگوں کے ہمراہ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار کھڑے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے لوگوں کی معیت میں ہی روانہ ہوتے اور یہ تمام عمل محض اللہ کی توفیق ہی سے ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1792]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں