المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
74. الْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ
عرفات میں وقوف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1793
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بَكْر (1) ، أخبرنا ابن جُرَيح، أخبرني أبي، عن جُبَير بن مُطْعَم قال: أضلَلْتُ جَمَلًا لي يومَ عرفة، فانطلقتُ إلى عرفةَ أبتغيه، فإذا أنا بمحمدٍ ﷺ واقفٌ مع الناس بعَرفةَ على بعيرِهِ عشيَّةَ عرفة، وذلك بعدما أُنزِلَ عليه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث ابن عُيينة عن عمرو بن دينار عن محمد بن جُبير عن أبيه، الحديث في ذكر الحُمْس (3) ، وأنَّ رسول الله ﷺ كان يقفُ بعرفة بثَنِيّة مكة.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث ابن عُيينة عن عمرو بن دينار عن محمد بن جُبير عن أبيه، الحديث في ذكر الحُمْس (3) ، وأنَّ رسول الله ﷺ كان يقفُ بعرفة بثَنِيّة مكة.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہو گیا، میں میدان عرفات میں اس کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا کہ اچانک میری نظر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی جو کہ عرفہ کی شام کو لوگوں کے ہمراہ اپنے اونٹ پر سوار کھڑے تھے اور یہ (اس دن جو وحی نازل ہوئی تھی اس کے) نزول کے بعد کی بات ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا جبکہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ابن عیینہ کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے محمد بن جبیر کے حوالے سے ان کے والد سے گھنٹی کے ذکر میں حدیث روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں عرفہ میں وقوف کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1793]