🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

86. الصَّلَاةُ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ
اہلِ بقیع پر درود و سلام (نماز/دعا) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1814
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي. وأخبرني أبو بكر بن أبي نصر المُزكِّي بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، قالا: حدثنا القَعْنبي فيما قَرأَ على مالك. وأخبرني أبو يحيى السَّمَرقَنْدي، حدثنا محمد بن نَصْر (2) . وأخبرنا يحيى بن منصور، حدثنا محمد بن عبد السلام؛ قالا: حدثنا يحيى بن يحيى قال: قرأتُ على مالك، عن علقمة بن أبي علقمة، عن أُمه، عن عائشة سَمِعتُها تقول: قام رسولُ الله ﷺ فلَبِسَ ثيابه ثم خرج، فأمرتُ جاريتي بَرِيرةَ أَن تَتْبعَه فتنظرَ أين يذهب، فتَبِعَتْه حتى جاء البَقِيع، فوقف في أدناهُ ما شاء الله أن يقفَ، ثم انصَرَف راجعًا، فَسَبَقَتْه بَرِيرةُ، قالت عائشة: فأخبَرَتْني، قالت: فلم أذكرْ شيئًا من ذلك لرسول الله ﷺ حتى أصبحتُ، فذكرتُ ذلك له، فقال ﷺ:"إِنِّي بُعِثْتُ إلى أهل البَقِيع لأُصلِّيَ عليهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات کے وقت) اُٹھ کر کپڑے پہن کر باہر نکل گئے، میں نے اپنی لونڈی بریرہ سے کہا: وہ آپ کے پیچھے پیچھے جائے اور یہ دیکھتی رہے کہ آپ کہاں جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلتے جنت البقیع میں پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پر کافی دیر ٹھہرے رہے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آنے کے لیے پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے گھر پہنچ گئیں۔ اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بریرہ نے مجھے یہ سارا معاملہ بتا دیا۔ آپ فرماتی ہیں: میں نے (رات میں) اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہیں کیا، جب صبح ہو گئی، تب میں نے آپ کو یہ بات بتائی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اہلِ بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے لیے دعائے مغفرت مانگوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1814]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں