🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

87. الدُّعَاءُ إِذَا قَدِمَ مِنَ السَّفَرِ
سفر سے واپس آنے پر پڑھی جانے والی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1815
حدثنا عبد الصمد بن علي البزّاز إملاءً ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباسٍ قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا قَدِمَ من سفرٍ فرأَى أهلَه قال:"أَوْبًا أوْبًا، إلى ربِّنا تَوْبًا (2) لا يغادرُ علينا حَوْبًا" (3) .
هذا حديث صحيح بين الشيخين، لأنَّ البخاري تفرَّد بالاحتجاج بعكرمة، ومسلم بسِمَاك بن حرب، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے اور اپنے گھر والوں کو دیکھتے تو یوں فرماتے: اَوْبًا اَوْبًا اِلٰی رَبِّنَا تَوْبًا لَایُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْبًا ہم لوٹ آئے، ہم لوٹ آئے۔ ہم اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں، ہمارے اوپر کسی گناہ کا بوجھ نہ رہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صرف عکرمہ کی روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے صرف سماک بن حرب کی روایت نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1815]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1816
أخبرنا محمد بن أحمد بن حاتم المُزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو عن أبيه، عن جدِّه، عن عائشة أُم المؤمنين قالت: أَقبَلْنا من مكة في حجٍّ أو عُمرةٍ، وأُسَيدُ بنُ حُضَير يَسِير بين يَدَيْ رسولِ الله ﷺ، فتلقَّانا غلمانٌ من الأنصار كانوا يَتلَقَّون أهاليَهم إذا قَدِموا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم حج یا عمرہ کر کے مکہ سے واپس آ رہے تھے، اسید بن حضیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چل رہے تھے تو ہماری ملاقات کچھ انصاری بچوں سے ہوئی جو واپس آنے والوں کو خش آمدید کہا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1816]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1817
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا أبو فَرْوة الرُّهَاوي، عن عُرْوة بن رُوَيم اللَّخْمي قال: سمعتُ أبا ثَعْلبة الخُشَنيَّ يقول: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ من غَزاةٍ له، فدخل المسجد فصلَّى فيه ركعتين - وكان يُعجبُه إذا قَدِمَ من سفر أن يَدخُلَ المسجد فيصلِّيَ فيه ركعتين (1) ثم يَخرج - فأتى فاطمةَ فبدأ بها فاستَقبَلَته، فجعلَت تُقبِّل وجهَه وعينَيه، فقال لها رسولُ الله ﷺ:"ما يُبكيكِ (2) ؟" قالت: يا رسولَ الله، أراك قد شَحَبَ لونُك، فقال لها رسولُ الله ﷺ:"يا فاطمةُ، إنَّ الله ﷿ بَعَثَ أباكِ بأمرٍ لم يَبْقَ على ظهر الأرض بيتُ مَدَرٍ ولا شَعرٍ إلَّا أدخلَ الله به عزًّا أو ذلًّا، حتى يَبلُغ حيثُ بَلَغَ الليلُ (3) " (4) .
هذا حديث رواته مُجمَعٌ عليهم بأنهم ثقات، إلَّا أبا فروةَ يزيدَ بنَ سِنان. وله شاهدٌ من حديث إبراهيم بن قُعَيْس:
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں دو نفل ادا کیے اور آپ کو یہ بات بہت پسند تھی کہ آپ جب بھی کسی سفر سے واپس آتے تو (سب سے پہلے) مسجد میں جا کر دو رکعت نوافل ادا کرتے۔ (حسب معمول نوافل ادا کرنے کے بعد) سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (بہت خندہ پیشانی کے ساتھ) آپ کا استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے اور آنکھوں پر بوسہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: اے فاطمہ! آپ کو کیا ہوا؟ (آپ پریشان کیوں لگ رہی ہیں) انہوں نے جواب دیا: میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کا رنگ تبدیل ہو چکا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: اے فاطمہ! اللہ تعالیٰ نے تیرے والد کو ایسی چیز دے کر بھیجا ہے کہ (روئے زمین کے گوشے گوشے میں حتیٰ کہ) ہر کچے مکان، اور گھاس پھوس کی جھونپڑی میں بھی اللہ تعالیٰ (کچھ لوگوں کو اس کی اطاعت کے سبب سے) عزت دے گا اور (کچھ لوگوں کو نافرمانی کی بنا پر) ذلت دے گا یہاں تک کہ یہ دین وہاں تک پہنچ جائے جہاں رات پہنچتی ہے۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راویوں کے متعلق محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ ثقہ ہیں، سوائے ابوفروہ یزید بن سنان کے۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے۔ جو کہ ابراہیم بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1817]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1818
حدَّثَناه أبو الحسين أحمد بن عثمان الأَدَمي المقرئ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يحيى بن حمَّاد، حدثنا أبو عَوَانة، حدثنا العلاء بن المسيّب، عن إبراهيم بن قُعَيس، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا خَرَجَ في غَزَاةٍ، كان آخرُ عَهدِه بفاطمة، وإذا رَجَعَ من غَزَاةٍ، كان أولُ عهدِه بفاطمة؛ ثم ذَكَرَ باقيَ الحديث بغير هذا اللفظ (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کے لیے روانہ ہوتے (تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات فرماتے اور جب وہاں سے واپس آتے) تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے۔ ٭٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اتنا بیان کرنے کے سابقہ حدیث نقل کی ہے تاہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1818]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1819
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة، حدثنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن أبيه: أنَّ ابن عمر كان يُزاحِم على الرُّكْنين، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، إنَّكَ تُزاحِم على الركنين زِحامًا ما رأيتُ أحدًا من أصحاب رسول الله ﷺ يُزاحِم عليه! قال: إنْ أَفعلْ فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ مَسْحَهُما كفَّارةٌ للخَطَايا"، [وسمعتُه يقول:"مَن طافَ بهذا البيت سُبوعًا فأحصاهُ، كان كعِتْقِ رَقَبة"] (1) ، وسمعته يقول:"لا يَضَعُ قدمًا ولا يَرفَعُ أخرى إلَّا حَطَّ اللهُ عنه بها خَطيئةً، وكَتَبَ له بها حسنةً" (2) .
هذا حديث صحيح على ما بيّنتُه من حال عطاء بن السائب، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما رکنوں پر پہنچنے میں بہت مزاحمت کیا کرتے تھے، میں نے کہا: آپ رکنوں میں پہنچنے میں جس قدر مزاحمت کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو اتنی مزاحمت کرتے نہیں دیکھا، انہوں نے فرمایا: اگر میں یہ کام کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ان کو چھونا گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور میں نے آپ علیہ السلام کو یہ فرماتے بھی سنا ہے کہ جو شخص تمام شرائط اور آداب کا لحاظ کرتے ہوئے بیت اللہ کا طواف کرے، اس کو ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور میں نے آپ کو یہ فرماتے بھی سنا ہے کہ طواف کرنے والے کے ہر قدم کے عوض اللہ تعالیٰ ایک گناہ بخشتا ہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث عطاء بن سائب کے متعلق بیان کردہ حال کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1819]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1820
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أبو المُثنَّى العَنْبريُّ، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا ابن أبي عَديِّ، عن محمد بن إسحاق، حدثنا أبو عُبيدةَ بن عبد الله بن زَمْعة، عن أبيه وعن أُمه زينب بنت أبي سلمة، يحدِّثانه عن أُم سلمة - يحدِّثانه بذلك جميعًا عنها - قالت: كانت ليلتي التي يَصيرُ إليَّ رسولُ الله ﷺ، فدخل عليَّ وهبُ بن زَمْعة ومعه رجلٌ من آل أبي أُمية مُتقمِّصَين، فقال النبي ﷺ لوهب:"هل أفَضْتَ أبا عبد الله؟" قال: لا والله يا رسولَ الله، قال:"انزِعْ عنك القَمِيصَ". قال: فنَزَعَه من رأسه، ونَزَعَ صاحبُه قميصَه من رأسه، قالوا: ولِمَ يا رسول الله؟ قال:"إنَّ هذا قد رُخِّصَ لكم إذا رَمَيتُم الجَمْرةَ أن تحِلُّوا من كل ما حُرِمْتُم منه إلَّا النساء، فإذا أَمسيتُم قبل أن تَطُوفوا بهذا البيت صِرتُم حُرُمًا كهيئتِكم قبل أن تَرمُوا الجَمْرة حتى تَطُوفوا" (1) . قال أبو عُبيدة (1) : وحدَّثَتني أمُّ قيس (2) . [كتاب الدعاء والتسبيح والتكبير والتهليل والذكر]
سیدنا اُمّ المومنین اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یہ اس رات کی بات ہے جب میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح ہوا تھا، وہب بن زمعہ اور ان کے ہمراہ آلِ ابوامیہ کے کچھ لوگ قمیص پہنے ہوئے ہمارے پاس آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوعبداللہ! کیا تم نے احرام کھول دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر قمیص اُتار دو، فرماتے ہیں: انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے قمیص اُتار دی، انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (آپ نے قمیص) کیوں (اتروائی؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رمی کر چکو تو اس کے بعد تمہیں یہ رخصت ہے کہ عورتوں کے سوا ہر چیز جو تمہارے اوپر حرام تھی ان کو حلال کر لو لیکن اگر تم نے طواف سے پہلے شام کر لی تو طواف کرنے سے پہلے تم پر اسی طرح اشیاء حرام ہیں جیسے رمی سے پہلے تھیں۔ ابوعبیدہ فرماتے ہیں: مجھے یہ حدیث اُمّ قیس رضی اللہ عنہما نے بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1820]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں