المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. رَفْعُ الْأَيْدِي عِنْدَ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَمْرُ غَلْقِ الْبَابِ
لا إله إلا الله کہتے وقت ہاتھ اٹھانا اور دروازہ بند کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1865
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا إسماعيل بن عيَّاش، عن راشد بن داود، عن يعلى بن شدّاد قال: حدثني أبي شدّادُ بن أوس، وعبادةُ بن الصامت حاضرٌ يصدِّقُه، قال: إِنا لَعِندَ رسول الله ﷺ إذ قال:"هل فيكم غَريبٌ؟" - يعني أهلَ الكتاب - قلنا: لا يا رسول الله، فأمر بغَلْقِ الباب، فقال:"ارفَعوا أيدِيَكُم فقولوا: لا إله إلَّا الله" فرفعنا أيدِيَنا ساعةً، ثم وَضَعَ رسول الله ﷺ يدَه ثم قال:"الحمدُ لله، اللهم إنَّك بَعَثْتَني بهذه الكلمة، وأمرتَني بها، ووعدتَني عليها الجنةَ، إنك لا تُخْلِفُ الميعاد" ثم قال:"أبشِروا، فإنَّ الله قد غَفَرَ لكم" (2) . قال الحاكم: حالُ إسماعيل بن عياش يَقرُب من الحديث قبلَ هذا، فإنه أحد أئمة أهل الشام، وقد نُسِبَ إلى سُوء الحفظ، وأنا على شَرْطي في أمثاله.
سیدنا یعلیٰ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد شداد بن اوس نے مجھے حدیث بیان کی اور اس وقت عبادہ بن صامت وہاں موجود تھے، انہوں نے ان کی تصدیق کی ہے۔ (میرے والد) فرماتے ہیں: ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی (یعنی اہلِ کتاب) ہے؟ ہم نے کہا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دروازہ بند کرنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: اپنے ہاتھوں کو اٹھاؤ اور پڑھو ” لا اِلٰہ الّا اللّٰہُ “ تو ہم نے ایک لمحے کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ نیچے کر لیے پھر یوں دعا مانگی: (الحمدللہ، اللّٰھمّ انک بعثتنی بھٰذہ الکلمۃ، وامرتنی بھا، ووعدتنی علیھا الجنّۃ، انّک لا تخلف المیعاد) ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اے اللہ! تو نے مجھے یہ کلمہ دے کر بھیجا ہے اور اسی کا تو نے مجھے حکم دیا ہے اور اس پر تو نے میرے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا ہے۔ ٭٭ امام حاکم فرماتے ہیں: اسماعیل بن عیاش کا حال اس سے قبل بھی حدیث کے قریب ہے کیونکہ یہ اہلِ شام کے آئمہ میں سے ہیں اور ان کو سوء حفظ کی جانب منسوب کیا گیا ہے اور میں اس طرح کی حدیث روایت کرنے میں اپنے معیار پر قائم ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1865]