🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. رَفْعُ الْأَيْدِي عِنْدَ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَمْرُ غَلْقِ الْبَابِ
لا إله إلا الله کہتے وقت ہاتھ اٹھانا اور دروازہ بند کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1865
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا إسماعيل بن عيَّاش، عن راشد بن داود، عن يعلى بن شدّاد قال: حدثني أبي شدّادُ بن أوس، وعبادةُ بن الصامت حاضرٌ يصدِّقُه، قال: إِنا لَعِندَ رسول الله ﷺ إذ قال:"هل فيكم غَريبٌ؟" - يعني أهلَ الكتاب - قلنا: لا يا رسول الله، فأمر بغَلْقِ الباب، فقال:"ارفَعوا أيدِيَكُم فقولوا: لا إله إلَّا الله" فرفعنا أيدِيَنا ساعةً، ثم وَضَعَ رسول الله ﷺ يدَه ثم قال:"الحمدُ لله، اللهم إنَّك بَعَثْتَني بهذه الكلمة، وأمرتَني بها، ووعدتَني عليها الجنةَ، إنك لا تُخْلِفُ الميعاد" ثم قال:"أبشِروا، فإنَّ الله قد غَفَرَ لكم" (2) . قال الحاكم: حالُ إسماعيل بن عياش يَقرُب من الحديث قبلَ هذا، فإنه أحد أئمة أهل الشام، وقد نُسِبَ إلى سُوء الحفظ، وأنا على شَرْطي في أمثاله.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جبکہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ وہاں موجود ان کی تصدیق کر رہے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی (یعنی اہل کتاب میں سے) ہے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنے ہاتھ اٹھاؤ اور کہو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پس ہم نے تھوڑی دیر ہاتھ اٹھائے رکھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اے اللہ! تو نے مجھے اسی کلمہ کے ساتھ مبعوث فرمایا، مجھے اسی کا حکم دیا اور اس پر جنت کا وعدہ فرمایا، اور بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، بے شک اللہ نے تمہیں بخش دیا ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اسماعیل بن عیاش کا حال اس سے پچھلی حدیث کے راوی جیسا ہی ہے، وہ اہل شام کے ائمہ میں سے ہیں لیکن ان کی طرف سوءِ حفظ منسوب ہے، اور میں ان جیسے راویوں کے بارے میں اپنی شرط پر قائم ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1865]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف راشد بن داود» [ترقيم الرساله 1865] [ترقيم الشركة 1850]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں