المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
جس کا آخری کلام لا إله إلا الله ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 1863
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهْدي بن رُسْتُم. وحدثنا أبو الحُسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطَري، حدثنا أبو قِلَابة الرَّقاشي (2) . وحدثنا أبو بكر بنْ إسحاق الفقيه وأبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد السُّلَمي وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالوا: حدثنا أبو مسلم؛ قالوا: حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني صالح بن أبي عَرِيب، عن كَثِير بن مُرَّةَ، عن معاذ بن جبلٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن كان آخرَ كلامِه لا إله إلَّا الله، دَخَلَ الجنة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله قصةٌ لأبي زُرعةَ الرازي قد ذكرتُها في كتاب"المعرفة". حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر رمضان سنة ستٍّ وتسعين وثلاث مئة:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله قصةٌ لأبي زُرعةَ الرازي قد ذكرتُها في كتاب"المعرفة". حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر رمضان سنة ستٍّ وتسعين وثلاث مئة:
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی زندگی کا آخری کلام ” لا الٰہ الّا اللّٰہ “ ہوا وہ جنتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور انہوں نے ابوزرعہ کا ایک قصہ بھی بیان کیا ہے جس کو میں نے کتاب المعرفۃ میں نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1863]
حدیث نمبر: 1864
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أبو قِلَابةَ، حدثنا سهل بن حمّاد وحجّاج بن مِنْهال وأبو ظَفَرٍ، قالوا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابتٍ وداودَ بن أبي هند، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن قال في يومٍ مئةَ مرة: لا إله إلا الله وحده لا شريكَ له، له الملكُ وله الحمد، وهو على كلِّ شيءٍ قديرٌ، لم يَسبِقْهُ أحدٌ كان قبلَه ولا يُدرِكُه أحدٌ كان بعدَه، إلَّا مَن عمل عملًا أفضلَ من عملِه" (1) .
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک دن میں 100 مرتبہ: ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر “ پڑھے، نہ تو سابقہ لوگوں میں سے کوئی اس سے زیادہ ثواب حاصل کر سکتا ہے اور نہ بعد میں آنے والوں میں سے کوئی اس کے ثواب کو پہنچ سکتا ہے البتہ جو آدمی اس سے بھی افضل عمل کرے (وہ اس سے آگے نکل سکتا ہے)۔ ٭٭ امام حاکم اپنی سند کے ہمراہ اسحاق بن ابراہیم کا بیان نقل کرتے ہیں کہ ” جب عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو تو یہ سند ” ایوب عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہما کے درجے کی سند قرار پاتی ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے کتاب کے شروع سے لے کر اس مقام تک عمرو بن شعیب کی کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے۔ اور کتاب الدعاء والتسبیح کے آغاز میں، میں نے امام ابوسعید عبدالرحمن بن مہدی کا یہ مذہب بیان کر دیا تھا کہ فضائلِ اعمال سے متعلق احادیث کی سند کے معاملے میں قدرے نرم انداز اپنایا جاتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1864]
حدیث نمبر: 1864M
سمعت الأستاذ أبا الوليد القرشي ﵁ يقول: سمعت إبراهيم بن أبي طالبٍ يقول: سمعت إسحاق بن إبراهيم الحنظليَّ يقول: إذا كان الراوي عن عمرو بن شعيب ثقةً، فهو كأيوب عن نافع عن ابن عمر. قال الحاكم: لم أُخرِّج من أول الكتاب إلى هذا الموضع حديثًا لعمرو بن شعيب (1) ، وقد ذكرتُ في أول كتاب الدعاء والتسبيح مذهبَ الإمام أبي سعيد عبد الرحمن بن مَهدي في المسامحة في أسانيدِ فضائل الأعمال.
میں نے استاذ ابوالولید القرشی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابراہیم بن ابی طالب سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) کو یہ فرماتے سنا: ”جب عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو، تو یہ سند (مضبوطی میں) ایسی ہی ہے جیسے ایوب کی نافع سے اور نافع کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہوتی ہے“۔ امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے کتاب کے آغاز سے لے کر اس مقام تک عمرو بن شعیب کی کوئی (فقہی) حدیث تخریج نہیں کی، اور میں نے ’کتاب الدعاء والتسبیح‘ کے شروع میں امام ابو سعید عبدالرحمن بن مہدی کا وہ موقف ذکر کر دیا ہے جس میں انہوں نے فضائلِ اعمال کی اسانید میں نرمی برتنے کی اجازت دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1864M]