المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. دُعَاءُ دَفْعِ الْكَرْبِ الْمَأْمُورُ بِتَعَلُّمِهِ
وہ دعا جسے پریشانی دور کرنے کے لیے سیکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 1897
أخبرنا محمد بن المُؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا أبو ثابت محمد بن عُبيد الله، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، حدثني سعد بن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ما كَرَبَني أَمرٌ إِلَّا تَمثَّل لي جبريلُ ﵇ فقال: يا محمد، قل: توكَّلتُ على الحي الذي لا يموت، والحمدُ لله الذي لم يَتَّخِذْ ولدًا، ولم يكن له شَريكٌ في المُلك، ولم يكن له وَليٌّ من الذُّلِّ، وكبِّره تكبيرًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے جب بھی کوئی پریشانی آتی ہے تو جبریل امین علیہ السلام میرے سامنے انسانی شکل میں آ کر فرماتے ہیں: اے محمد پڑھیے: ” توکلت علی الحی الذی لا یموت، والحمدللّٰہ الذی لم یتّخذ ولدًا، ولم یکن لَّہ شریکٌ فی الملکِ، ولم یکن لہ ولیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وکبِّرہُ تکبیرًا “ ” میں نے اس زندہ پر توکل کیا ہے جس کو موت نہیں ہے اور سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے اپنے لیے بچہ اختیار نہ فرمایا اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں اور کمزوری سے اس کا کوئی حمایتی نہیں اور اس کی بڑائی بولنے کو تکبیر کہو۔ “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1897]