المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
45. دُعَاءُ وِقَايَةِ شَرِّ النَّفْسِ
نفس کے شر سے حفاظت کی دعا۔
حدیث نمبر: 1901
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل بن يونس، عن منصور، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن عِمران بن حُصَين، عن أبيه: أنَّه أتَى النبيَّ ﷺ قبل أن يُسلِمَ، فلما أراد أن ينصرف قال: ما أقول؟ قال:"قُل: اللهمَّ قِنِي شَرَّ نفسي، واعزِمْ لي على رُشْدِ أمري"، فقالها، ثم انصرف ولم يُسلِمْ، ثم أسلم، قال: يا رسول الله، فما أقول الآن وقد أسلمتُ؟ قال:"قُل: اللهمَّ قِنِي شرَّ نفسي، واعزِمْ لي على رُشْدِ أمري، اللهمَّ اغفر لي ما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أخطأتُ وما عَمَدتُ، وما عَلِمتُ وما جَهِلتُ" (2) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اسلام لانے سے قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، جب وہ لوٹنے لگے تو پوچھا: میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو:” اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور مجھے میرے نیک ارادے میں کامیاب فرما۔ “ انہوں نے یہ کہا اور پلٹ گئے اور اسلام قبول نہ کیا۔ پھر بعد میں جب وہ اسلام لائے تو عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب جبکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں، کیا دعا مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں دعا مانگا کرو: ” اللّٰھم قنی قرَّ نفسی، واعزم لی علی ارشد امری، اللھم اغفرلی ما اسررت وما اعلنت، وما اخطات وما عمدت، وما علمت وما جھلت “ ” اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا “ اور مجھے ہدایت کے راستے پر ثابت قدم فرما “ اے اللہ! میرے ظاہر اور باطن سب گناہوں کو معاف فرما اور جو میں نے خطائیں کیں یا قصداً غلطیاں کیں اور جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا (سب گناہ معاف فرما)۔ “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1901]