المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
46. فَضِيلَةُ الِاسْتِغْفَارِ
استغفار کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1902
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا شعبة قال: سمعتُ أبا إسحاق قال: سمعتُ أبا المغيرةِ - أو المغيرةَ أبا الوليد - يحدِّثُ عن حذيفة أنه قال: يا رسول الله، إنِّي رجلٌ ذَرِبُ اللسانِ، وإنَّ عامَّة ذلك على أهلي، فقال:"فأينَ أنتَ من الاستغفار؟ إنِّي لأَستغفرُ الله في اليوم والليلة - أو الليلةِ، أو في اليوم - مئةَ مرَّة" (1) . قال الحاكم: هذا عُبيدٌ أبو المغيرة بلا شكٍّ، وقد أتى شعبةُ بالإسناد والمتن بالشك، وحَفِظَه سفيانُ بن سعيد فأَتى به بلا شكٍّ في الإسناد والمتن:
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت تیز زبان شخص ہوں اور یہ عادت میرے پورے گھر میں پائی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو استغفار کیوں نہیں کرتا؟ میں اللہ تعالیٰ سے دن رات میں 100 مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ ٭٭ امام حاکم فرماتے ہیں: اس عبید ابوالمغیرہ کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے جبکہ شعبہ نے اس سند اور متن کو شک کے ساتھ پیش کیا ہے جبکہ سفیان بن سعید نے اس کو محفوظ رکھا ہے اور مجھے اس سند اور متن میں کوئی شک نہیں ہے۔ (سفیان بن سعید کا روایت کردہ متن اور سند درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1902]