المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
57. دُعَاءُ قَضَاءِ الدَّيْنِ
قرض کی ادائیگی کی دعا۔
حدیث نمبر: 1919
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله بن مُسلم، حدثنا حجاج بن مِنهال، حدثنا عبد الله بن عمر النُّمَيري، عن يونس بن يزيد الأَيْلي، حدثني الحَكَم بن عبد الله الأَيْلي، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، قالت: دخَل عليَّ أبو بكر فقال: هل سمعتِ من رسولِ الله ﷺ دعاءً علَّمَنِيه؟ قلتُ: ما هو؟ قال: كان عيسى ابنُ مريم يُعلِّمه أصحابَه، قال:"لو كان على أحدِكُم جبلُ ذهبٍ دَينًا، فدعا اللهَ بذلك، لقَضاه اللهُ عنه: اللهمَّ فارجَ الهَمّ، كاشِفَ الغَمّ، مُجيبَ دعوةِ المُضطرين، رحمنَ الدنيا والآخرةِ (1) ورَحِيمَهما، أنت تَرحمُني فارحمْني رحمةً تُغنِيني بها عن رحمةِ مَن سِواكَ". قال أبو بكر الصديق: وكانت عليَّ بقيةٌ من الدَّين، وكنتُ للدَّيْن كارهًا، فكنتُ أدعُو بذلك، فأتاني اللهُ بفائدةٍ فقضاهُ اللهُ عنّي، قالت عائشةُ: [كان] لأسماءَ بنتِ عُميسٍ عليَّ دينارٌ وثلاثةُ دراهمَ، فكانت تدخُل علي فأستحيي أن أنظُر في وجهها، لأني لا أجدُ ما أَقضيها، فكنتُ أدعُو بذلك، فما لبثتُ إِلَّا يسيرًا حتى رَزَقنيَ اللهُ رِزقًا ما هو بصدقةٍ تُصدِّق بها عليَّ، ولا ميراثٍ ورثتُه، فقضاهُ اللهُ عني، وقسمتُ في أهلي قَسْمًا حسنًا، وحَلَّيتُ ابنةَ عبد الرحمن بثلاثِ أواقِ وَرِقٍ وفَضَلَ لنا فَضْلٌ حَسَن (1) . قد احتجَّ البخاريُّ بعبد الله بن عمر النُّميري، و
هذا حديثٌ صحيحٌ، غير أنهما لم يحتجّا بالحكم بن عبد الله الأَيْلي (2) .
هذا حديثٌ صحيحٌ، غير أنهما لم يحتجّا بالحكم بن عبد الله الأَيْلي (2) .
سیدنا اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے پاس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دعا سکھائی ہے۔ کیا تو نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی وہ سنی ہے؟ (ام المؤمنین فرماتی ہیں) میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ دعا ہے جو عیسیٰ علیہ السلام اپنے اصحاب کو سکھایا کرتے تھے۔ وہ فرماتے تھے اگر تمہارے اوپر پہاڑ کے برابر سونا قرضہ ہو گا اور تم یہ دعا اللہ سے مانگو گے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرضہ ادا فرما دے گا۔ (وہ دعا یہ ہے): اللّٰھم فارج الھم، کاشف الغم، مجیب دعوۃ المضطرین، رحمان الدنیا والاٰخرۃ ورحیمھما، انت ترحمنی، فارحمنی برحمۃ تغنینی بھا عن رحمۃ من سواک۔ “ ” اے اللہ! مشکل آسان فرمانے والے اور غم ختم فرمانے والے! اے بے بسوں کی دعائیں قبول کرنے والے، دنیا اور آخرت رحمن و رحیم! تو ہی مجھ پر رحم فرما، تو مجھے ایسی رحمت عطا کر جو مجھے تیرے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے ذمہ کافی قرضہ تھا اور میں قرضہ کو ناپسند کرتا تھا تو میں یہ دعا مانگا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا فائدہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا قرضہ ادا کرا دیا۔ اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اسماء بنتِ عمیس رضی اللہ عنہا کے میرے ذمہ ایک دینار اور تین درہم تھے، وہ جب بھی میرے پاس آتی تو میں شرمندگی کی وجہ سے اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتی تھی کیونکہ میرے پاس اس کا قرضہ ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے یہ دعا مانگنا شروع کر دی تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا رزق عطا فرمایا کہ میرا قرضہ بھی ادا ہو گیا، میں نے اپنے گھر والوں میں اسے تقسیم بھی کیا اور عبدالرحمن کی بیٹی کے لیے تین اوقیہ چاندی کا زیور بھی بنایا اور یہ سارا کچھ نہ تو کسی کا دیا ہوا صدقہ تھا اور نہ ہی کوئی وراثت کا حصہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنا خاص فضل فرمایا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما غیر کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث صحیح ہے سوائے اس کے کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے حکم بن عبداللہ الایلی کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1919]
حدیث نمبر: 1920
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا أبو المُثنّى العَنْبري ومحمد بن أيوب البَجَلي، قالا: حدثنا عبد الرحمن بن المبارك العَيشي، حدثنا فُضيل بن سليمان النُّميري، حدثنا موسى بن عُقبة، حدثنا عبيد الله بن سلْمان الأغَرّ، عن أبيه، عن أبي الدرداء، عن النبي ﷺ، قال:"كلُّ شيءٍ يتكلم به ابنُ آدمَ فإنه مكتوبٌ عليه، فإذا أخطأ خطيئةً فأحبَّ أن يتوبَ إلى اللهِ، فليأتِ رَفِيعةً فَليَمُدَّ يدَيه إلى الله ﷿، ثم يقول: اللهمّ إني أتوبُ إليك منها، لا أرجِعُ إليها أبدًا، فإنه يُغفر له ما لم يَرجِعْ في عمله ذلك" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان جو کچھ بھی بولتا ہے وہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے چنانچہ اگر انسان کوئی خطا کر بیٹھے تو پھر وہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ کوئی ایسا عمل کرے جو اس خطا کا ازالہ کر دے پھر اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلا کر یوں کہے: اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں اس خطا سے توبہ کرتا ہوں اور (میں وعدہ کرتا ہوں) کہ دوبارہ کبھی بھی یہ خطا نہیں دہراؤں گا “ تو اس کو معاف کر دیا جاتا ہے جب تک کہ وہ اس عمل کو دوبارہ نہ دھرائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1920]
حدیث نمبر: 1921
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا علي بن خَشْرم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن أبي بكر بن أبي مريم الغَسّاني، عن ضَمْرة بن حبيب، عن زيد بن ثابت: أنَّ رسول الله ﷺ علَّمه وأمَرَه أن يَتعاهدَ أهلَه في كل صباحٍ:"لَبّيكَ اللهمَّ لَبّيكَ وسَعْدَيك، والخيرُ في يدَيك، ومنك وإليك، اللهمّ ما قلتُ مِن قولٍ، أو حلَفتُ من حَلِفٍ، أو نذَرتُ من نَذْرٍ، فمشيئتُك بين يدَي ذلك كلِّه، ما شئتَ كان، وما لم تَشأ لم يكُن (1) ، ولا حَولَ ولا قُوةً إلَّا بك، إنك على كل شيءٍ قديرٌ، اللهم ما صليتُ من صلاةٍ فعلى من صلّيتُ، وما لعنتُ من لَعنٍ فعلى من لَعنتُ، أنت وَليِّي في الدنيا والآخرة، تَوفَّني مسلمًا وأَلحِقْني بالصالحين، اللهم إني أَسألُك الرضا بعد القضاءِ، وبَرْدَ العيشِ بعد الموت، ولذةَ النظرِ إلى وجهك، وشوقًا إلى لقائك، في غير ضَرَّاءَ مُضِرّة، ولا فتنةٍ مُضِلّة، وأعوذُ بك أن أَظلِمَ أو أُظلَمَ، أو أَعتديَ أو يُعتدى علَيَّ، أو أكسِبَ خطيئةً أو ذنبًا لا تغفرُه، اللهمَّ فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيبِ والشهادة، ذا الجَلالِ والإكرام، فإني أَعهَدُ إليك في هذه الحياة الدنيا وأُشهِدُك، وكفى بك شهيدًا، أني أشهد أن لا إله إلَّا أنتَ وحدَك لا شَريكَ لك، لك المُلك ولك الحَمدُ، وأنت على كلِّ شيءٍ قديرٌ، وأشهدُ أنَّ محمدًا عبدُك ورسولُك، وأشهدُ أنَّ وَعدَكَ حقٌّ، ولقاءَك حقٌّ، والساعةَ آتيةٌ لا رَيبَ فيها، وأنك تبعثُ مَن في القُبور، وأنك إن تَكِلْني إلى نفسي تَكِلْني إلى ضعفٍ وعَورةٍ وذنبٍ وخطيئةٍ، وإني لا أثِقُ إلَّا برحمتِك، فاغفِرْ لِي ذُنوبي كلَّها، إنه لا يَغفرُ الذنوبَ إلَّا أنتَ، وتُب علَيَّ إنك أنت التوّابُ الرحيمُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعا سکھائی ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ اپنے گھر والوں کو ہر صبح یہ دعا مانگنے کی عادت ڈالے (وہ دعا یہ ہے) ” میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، نیک بختی تیری طرف سے ہے اور بھلائی تیری طرف سے اور تیرے ہاتھ میں ہے اور تیری طرف ہے، اے اللہ! میں کوئی گفتگو کروں یا قسم کھاؤں یا کوئی نذر مانوں تو تیری مشیئت ان تمام امور میں میرے پیش نظر ہے۔ جو تو چاہے گا وہی ہو گا اور جو تو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہو گا۔ اور ہر طرح کی طاقت اور قوت تیرے ہی پاس ہے، بے شک تو ہر چاہت پر قادر ہے، اے اللہ! میں جو بھی نماز پڑھوں تو وہ تیری خواہش کے مطابق ہو اور جس پر لعنت کروں وہ بھی تیری خواہش کے مطابق ہو، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا مددگار ہے، تو مجھے حالتِ اسلام پر موت دے اور مجھے نیک لوگوں میں شامل رکھ، اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فیصلے کے بعد تیری رضا مانگتا ہوں اور موت کے بعد راحت کی زندگی چاہتا ہوں اور تیری زیارت کی لذت چاہتا ہوں اور تیری ملاقات کا شوق چاہتا ہوں، کسی نقصان اور گمراہ کن فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے یا میں زیادتی کروں یا میرے ساتھ زیادتی کی جائے یا میں کوئی خطا یا گناہ کا عمل کروں جس کی مغفرت نہ ہو سکے، اے اللہ! اے زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے، اے غیب اور شہادت کے جاننے والے، اے ذوالجلال والاکرام! اس دنیا میں میرا عہد تیرے لیے ہے اور میں تیری گواہی دیتا ہوں اور تیری گواہی کافی ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو تنہا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تیری ہی بادشاہی ہے اور تو ہی تعریفوں کا مستحق ہے اور تو ہر چاہت پر قادر ہے اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ برحق ہے اور تیری ملاقات حق ہے اور قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے اور تو قبر والوں کو زندہ کرے گا اور تو اگر مجھے میرے سہارے پر چھوڑے گا تو میں اپنی کمزوری اور عورت اور گناہ اور خطاؤں کے آسروں پر جاؤں گا، میں صرف تیری ہی رحمت پر بھروسہ رکھتا ہوں، اس لیے یا اللہ! میرے تمام گناہوں کو معاف فرما کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1921]