🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ
اللہ کا بندوں پر حق اور بندوں کا اللہ پر حق۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1922
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو الأحوص، حدثنا أبو إسحاق، عن كُميل بن زياد، عن أبي هريرة، قال: كنا نمشي مع رسولِ الله ﷺ في بعض حِيطان المدينةِ، فقال:"يا أبا هريرة" فقلتُ: لبيكَ يا رسولَ الله، فقال:"إنَّ المُكثِرين هم الأَقَلُّون إِلَّا مَن قال بمالِه هكذا وهكذا - وأومأ بيدِه عن يمينِه وعن شمالِه - وقليلٌ ما هُم"، ثم قال:"يا أبا هِرّ، ألا أدلُّك على كَنْزٍ من كُنوز الجنةِ؟" قلت: بلى يا رسول الله، قال:"تقول: لا حَولَ ولا قُوَّة إلَّا بالله، ولا مَلجأَ ولا مَنْجا من الله إلَّا إليه"، ثم قال:"يا أبا هِرّ، تدري ما حقُّ الله على العِباد، وما حقُّ العِبادِ على الله؟" قال: قلت: اللهُ ورسولُه أعلم، قال:"فإنَّ حقَّ الله على العِباد أن يَعبُدوه ولا يُشرِكُوا به شيئًا، وحقَّ العِباد على الله أن لا يُعذِّبَ مَن لا يُشركُ به" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مدینہ منورہ کے ایک باغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے ہی (قیامت کے دن اجر میں) کم ہوں گے سوائے اس شخص کے جس نے اپنے مال کو اس طرح اور اس طرح (یعنی ہر طرف صدقہ و خیرات میں) خرچ کیا - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں اور بائیں جانب اشارہ فرمایا - اور ایسے لوگ بہت کم ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہا کرو: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ» گناہوں سے بچنے کی ہمت اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں، اور اللہ سے بچنے کی کوئی پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں مگر اسی کی طرف، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس انداز میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1922]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وأبو الأحوص: هو سلّام بن سُليم، وأبو المُثنَّى: هو معاذ بن المثنَّى، وأخرجه مختصرًا بذكر المكثرين أحمد 13/ (8085) و 16/ (10795) من طريقين عن أبي إسحاق السبيعي، به.» [ترقيم الرساله 1922] [ترقيم الشركة 1907]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں