المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
58. حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ
اللہ کا بندوں پر حق اور بندوں کا اللہ پر حق۔
حدیث نمبر: 1922
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو الأحوص، حدثنا أبو إسحاق، عن كُميل بن زياد، عن أبي هريرة، قال: كنا نمشي مع رسولِ الله ﷺ في بعض حِيطان المدينةِ، فقال:"يا أبا هريرة" فقلتُ: لبيكَ يا رسولَ الله، فقال:"إنَّ المُكثِرين هم الأَقَلُّون إِلَّا مَن قال بمالِه هكذا وهكذا - وأومأ بيدِه عن يمينِه وعن شمالِه - وقليلٌ ما هُم"، ثم قال:"يا أبا هِرّ، ألا أدلُّك على كَنْزٍ من كُنوز الجنةِ؟" قلت: بلى يا رسول الله، قال:"تقول: لا حَولَ ولا قُوَّة إلَّا بالله، ولا مَلجأَ ولا مَنْجا من الله إلَّا إليه"، ثم قال:"يا أبا هِرّ، تدري ما حقُّ الله على العِباد، وما حقُّ العِبادِ على الله؟" قال: قلت: اللهُ ورسولُه أعلم، قال:"فإنَّ حقَّ الله على العِباد أن يَعبُدوه ولا يُشرِكُوا به شيئًا، وحقَّ العِباد على الله أن لا يُعذِّبَ مَن لا يُشركُ به" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک باغ میں سیر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ مالدار لوگ حقیقت میں غریب ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو اپنے مال کے ساتھ ایسے ایسے کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ دائیں بائیں اشارہ کیا (اور فرمایا لیکن) ایسے لوگ بہت کم ہیں پھر فرمایا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا میں جنت کے ایک خزانے پر تیری رہنمائی نہ کروں؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھا کرو: ” لا حول ولا قوّہ الا باللہ ولا ملجا، ولا منجا من اللہ الّا الیہ “ ” اللہ کے سوا کوئی طاقت اور مجال نہیں ہے، اللہ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ “ پھر آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو؟ کہ اللہ تعالیٰ کا بندے پر کیا حق ہے؟ اور بندے کا اللہ پر کیا حق ہے؟ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو شرک نہ کرے وہ اس کو عذاب نہ دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1922]