سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب الْمَرْأَةِ تَتَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا
باب: عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1685
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُ مَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُ مَا اكْتَسَبَ وَلِخَازِنِهِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1685]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوی جب اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے (صدقہ دے) جبکہ اسراف کرنے والی نہ ہو تو اسے صدقہ کرنے کا اور اس کے شوہر کو کما کر لانے کا ثواب ہے اور اس کے خزانچی کو بھی اسی قدر ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی کا اجر کم نہیں کرتا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 17 (1425)، 25 (1437)، 26 (1440)، والبیوع 12 (2065)، صحیح مسلم/الزکاة 25 (1024)، سنن الترمذی/الزکاة 34 (672)، سنن النسائی/الزکاة 57 (2540)، سنن ابن ماجہ/التجارات 65 (2294)، (تحفة الأشراف: 17608)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/44، 99، 278) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1425) صحيح مسلم (1024)
حدیث نمبر: 1686
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءُ، قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأُرَى فِيهِ وَأَزْوَاجِنَا فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَقَالَ:" الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الرَّطْبُ الْخُبْزُ وَالْبَقْلُ وَالرُّطَبُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی: اللہ کے نبی! ہم (عورتیں) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے خیال میں «أزواجنا» کا لفظ کہا (یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں)، ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے (کہ ہم خرچ کریں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «رطب» ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «رطب» روٹی، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1686]
سیدنا سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تو ایک باوقار (یا لمبے قد والی) عورت کھڑی ہوئی، گویا کہ وہ قبیلہ مضر سے تھی، کہنے لگی: ”اے اللہ کے نبی! ہم تو اپنے ماں باپ، اپنے بیٹوں،“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”میرا خیال ہے اس نے شوہروں کا ذکر بھی کیا،“ ”پر بوجھ ہیں تو ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا حلال ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تر چیزیں کھاؤ اور ہدیہ بھی دو۔)“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «رُطْبٌ» ”تر“ سے مراد روٹی، ترکاری اور تازہ کھجور ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ثوری نے بھی یونس سے ایسے ہی روایت کی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:3853) (ضعیف)» (اس کے رواة عبدالسلام اور زیاد کے اندر کچھ کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زياد بن جبير عن سعد مرسل،كما قال أبو زرعة (المراسيل لابن أبي حاتم ص 61)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
إسناده ضعيف
زياد بن جبير عن سعد مرسل،كما قال أبو زرعة (المراسيل لابن أبي حاتم ص 61)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
حدیث نمبر: 1687
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهَا نِصْفُ أَجْرِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس (شوہر) کا آدھا ثواب ملے گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1687]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے خاوند کی کمائی سے اس کے کہے بغیر صدقہ دے تو اسے اس کے شوہر کا آدھا ثواب ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 12 (2066)، والنکاح 86 (5192)، والنفقات 5 (5360)، صحیح مسلم/الزکاة 26 (1026)، (تحفة الأشراف:14695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/245، 316) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس مقدار پر محمول ہو گا جس کی عرفاً وعادۃً شوہر کی طرف سے بیوی کو خرچ کرنے کی اجازت ہوتی ہے، اگرچہ اس کی طرف سے صریح اجازت اسے حاصل نہ ہو، رہا اس سے زیادہ مقدار کا معاملہ تو شوہر کی صریح اجازت کے بغیر وہ اسے خرچ نہیں کر سکتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5360) صحيح مسلم (1026)
حدیث نمبر: 1688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَرْأَةِ تَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، قَالَ:"لَا، إِلَّا مِنْ قُوتِهَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا، وَلَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يُضَعِّفُ حَدِيثَ هَمَّامٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے کسی نے پوچھا، عورت بھی اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ اپنے خرچ میں سے دے سکتی ہے اور ثواب دونوں (میاں بیوی) کو ملے گا اور اس کے لیے یہ درست نہیں کہ شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمام کی (پچھلی) حدیث کی تضعیف کرتی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1688]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (سے پوچھا گیا کہ) کیا عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے (یا نہ دے)؟ انہوں نے کہا: ”نہیں، اپنے حصے کے خرچ سے دے سکتی ہے، (جو شوہر نے اسے دیا ہو۔) اور اجر ان دونوں کے مابین ہو گا۔ اور اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ گویا سابقہ حدیث ہمام کی تضعیف ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:14185) (صحیح موقوف)»
وضاحت: ۱؎: یہ عبارت سنن ابوداود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے، ہمام بن منبہ کی روایت صحیح ہے، اس کی تخریج بخاری و مسلم نے کی ہے، اس میں کوئی علت بھی نہیں ہے، لہٰذا ابوداود کا یہ کہنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے جب کہ عطا سے مروی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت موقوف ہے، اور دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق بھی ممکن ہے جیسا کہ نووی نے شرح مسلم میں ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن