سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب فِي صِلَةِ الرَّحِمِ
باب: رشتے داروں سے صلہ رحمی (اچھے برتاؤ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1689
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بِأَرِيحَاءَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ"، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنِ الْأَنْصَارِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ حَرَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ وَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ حَرَامٍ، يَجْتَمِعَانِ إِلَى حَرَامٍ وَهُوَ الْأَبُ الثَّالِثُ، وَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَتِيكِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، فَعَمْرٌو يَجْمَعُ حَسَّانَ وَ أَبَا طَلْحَةَ وَ أُبَيًّا: قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: بَيْنَ أُبَيٍّ وَ أَبِي طَلْحَةَ سِتَّةُ آبَاءٍ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» کی آیت نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگ رہا ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اریحاء نامی اپنی زمین اسے دے دی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو“، تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے محمد بن عبداللہ انصاری سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوطلحہ کا نام: زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو ابن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے، اور حسان: ثابت بن منذر بن حرام کے بیٹے ہیں، اس طرح ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور حسان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب حرام پر مل جاتا ہے وہی دونوں کے تیسرے باپ (پردادا) ہیں، اور ابی رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے: ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار، اس طرح عمرو: حسان، ابوطلحہ اور ابی تینوں کو سمیٹ لیتے ہیں یعنی تینوں کے جد اعلیٰ ہیں، انصاری (محمد بن عبداللہ) کہتے ہیں: ابی رضی اللہ عنہ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے نسب میں چھ آباء کا فاصلہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1689]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت کریمہ ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] نازل ہوئی تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگتا ہے تو آپ گواہ رہیں کہ میں نے اپنی بیرحاء والی زمین اللہ کے لیے دی،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما میں تقسیم کر دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے انصاری محمد بن عبداللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا نسب یوں ہے: ”ابوطلحہ زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجار۔“ اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کا نسب اس طرح ہے: ”حسان بن ثابت بن منذر بن حرام۔“ ابوطلحہ اور حسان رضی اللہ عنہما دونوں تیسرے باپ یعنی (پردادا) حرام پر جمع ہوتے ہیں۔ اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کا نسب یہ ہے: ”ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار۔“ عمرو (عمرو بن مالک) ان تینوں کو جمع کرتا ہے، یعنی حسان، ابوطلحہ اور ابی کو۔ انصاری نے وضاحت کی کہ ابی اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہما میں چھٹے باپ میں جا کر رشتہ جڑتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن (آل عمران) 6 (2927)، (تحفة الأشراف:315)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوکالة 15 (2318)، والوصایا 10 (2752)، وتفسیر القرآن 5 (4554)، والأشربة 13 (5611)، صحیح مسلم/الزکاة 13 (998)، موطا امام مالک/الجامع 83، مسند احمد (3/115، 285)، سنن الدارمی/الزکاة 23 (1695) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (998)
وله طريق آخر عند البخاري (1461، 4555)
وله طريق آخر عند البخاري (1461، 4555)
حدیث نمبر: 1690
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ فَأَعْتَقْتُهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" آجَرَكِ اللَّهُ، أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کر دیا، میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے بڑے اجر کی چیز ہوتی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1690]
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ ”میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے جزا دے، تاہم تو اگر اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ ثواب ہوتا۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:18058)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الہبة 15 (2592)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (999)، سنن النسائی/الکبری/المعتق (4932) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شاھد عند البخاري (2592) ومسلم (999)
وللحديث شاھد عند البخاري (2592) ومسلم (999)
حدیث نمبر: 1691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ، أَوْ قَالَ: زَوْجِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ:" أَنْتَ أَبْصَرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے کام میں لے آؤ“، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے بیٹے کو دے دو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنی بیوی کو دے دو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے خادم کو دے دو“، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ کسے دیا جائے)“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1691]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جان پر صدقہ کر۔“ کہنے لگا: ”میرے پاس دوسرا ہے۔“ فرمایا: ”اپنے بچے پر صدقہ کر۔“ کہنے لگا: ”میرے پاس ایک اور ہے۔“ فرمایا: ”اپنی بیوی پر صدقہ کر“، لفظ «زَوْجَتِكَ» یا «زَوْجِكَ» فرمایا، کہنے لگا: ”میرے پاس ایک اور ہے۔“ فرمایا: ”اپنے خادم پر صدقہ کر۔“ کہنے لگا: ”میرے پاس ایک اور ہے۔“ فرمایا: ”تو اس کے متعلق بہتر جانتا ہے۔“ (کہ کہاں اور کس پر خرچ کرنا ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 54 (2536)، (تحفة الأشراف: 13041)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/251، 471) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1940)
أخرجه النسائي (2536 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/251، 471)
مشكوة المصابيح (1940)
أخرجه النسائي (2536 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/251، 471)
حدیث نمبر: 1692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1692]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے گناہگار ہونے کے لیے یہ (عمل) کافی ہے کہ جن کے رزق و اخراجات کا یہ ذمہ دار ہو، انہیں ضائع کر دے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:8943)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 12 (996)، سنن النسائی/الکبری/عشرة النساء (9176)، مسند احمد (2/160، 194، 195) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جن کی کفالت اس کے ذمہ ہو ان سے قطع تعلق کر کے نیکی کے دوسرے کاموں میں اپنا مال خرچ کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
ابو اسحاق السبيعي صرح بالسماع عند الطيالسي (2281) وله طريق آخر عند مسلم (996)
ابو اسحاق السبيعي صرح بالسماع عند الطيالسي (2281) وله طريق آخر عند مسلم (996)
حدیث نمبر: 1693
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٌ، وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے لیے یہ بات باعث مسرت ہو کہ اس کے رزق میں اور عمر میں درازی ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ صلہ رحمی کرے (یعنی قرابت داروں کا خیال رکھے)“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1693]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے یہ بات اچھی لگتی ہو کہ اس کا رزق فراخ اور عمر طویل ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے عزیز و اقارب سے میل ملاپ رکھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:1516، 1555)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 13 (2067)، والأدب 12 (5986)، صحیح مسلم/البر والصلة 6 (2559)، مسند احمد (2393، 247) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2067) صحيح مسلم (2557)
حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ: أَنَا الرَّحْمَنُ وَهِيَ الرَّحِمُ شَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنَ اسْمِي، مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں رحمن ہوں اور «رَحِم» (ناتا) ہی ہے جس کا نام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے، لہٰذا جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹ دوں گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1694]
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں «الرَّحْمٰنُ» ”رحمن“ ہوں (بےانتہا رحم کرنے والا) اور یہ قرابت داریاں جسے کہ «الرَّحِمُ» ”رحم“ کہتے ہیں، اس کا لفظ میں نے اپنے نام سے نکالا ہے، تو جو اپنے عزیز قرابت داروں سے میل جول رکھتا ہے (صلہ رحمی کرتا ہے) میں اس سے جڑتا ہوں اور جو اس کو کاٹتا اور توڑتا ہے میں اس سے کٹ جاتا ہوں۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 9 (1907)، (تحفة الأشراف:9728)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/191، 194) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4930)
انظر الحديث الآتي (1695) فھو شاھد له
مشكوة المصابيح (4930)
انظر الحديث الآتي (1695) فھو شاھد له
حدیث نمبر: 1695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ الرَّدَّادَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث سنی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1695]
محمد بن متوکل عسقلانی کی سند سے مروی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:9728) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وللحديث شواھد
وللحديث شواھد
حدیث نمبر: 1696
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتہ ناتا توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1696]
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 11 (5984)، صحیح مسلم/البر والصلة 6 (2556)، سنن الترمذی/البر والصلة 10 (1909)، (تحفة الأشراف: 3190)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/80، 83، 84، 85، 382، 389، 397، 403) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5984) صحيح مسلم (2556)
حدیث نمبر: 1697
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَفِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُلَيْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعَهُ فِطْرٌ وَ الْحَسَنُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنْ هُوَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتہ ناتا جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں ناتا جوڑے بلکہ ناتا جوڑنے والا وہ ہے کہ جب ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1697]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدلے میں میل ملاپ کرنے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو توڑے جانے والے رشتے کو جوڑے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 15 (5991)، سنن الترمذی/البر والصلة 10 (1908)، (تحفة الأشراف:8915)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/163، 190، 193) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5991)