🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. أَمْرُ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ "
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی ﷺ کو یہ کہنے کا حکم: اے اللہ! میں تجھ سے نیکیاں مانگتا ہوں اور برائیوں کو چھوڑنے کی توفیق۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1933
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيْروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثنا خالد بن اللَّجْلاج، حدثنا عبد الرحمن بن عائش الحَضْرمي، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقولُ وذَكَر الربَّ ﵎، فقال:"قُل: اللهمَّ إني أسألُك الطَّيباتِ، وتَرْك المُنكراتِ، وحُبَّ المساكين، وأن تَتُوب علَيَّ وتَغفرَ لي وتَرحمَني، وإذا أردتَ فتنةً في قومٍ فتوفَّني غيرَ مَفتُون"، فقال رسول الله ﷺ:"تَعلَّموهُنَّ، فوالذي نفْسي بيده إنهنَّ الحقُّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن مُعاذ بن جَبَل عن النبي ﷺ مثلُه:
سیدنا عبد الرحمن بن عائش حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ، وَتَرْك المُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ المَسَاكِينِ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ وَتَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں (نیکیوں)، برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں، اور یہ کہ تو میری توبہ قبول فرما، مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو کسی فتنے میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں پڑے بغیر اپنی طرف اٹھا لے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کلمات کو سیکھ لو، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، یہ سراسر حق ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ایسی ہی روایت منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1933]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه كما هو مبيَّن مفصَّل في تعليقنا على "مسند أحمد" (3484) و (16621)، وخالد بن اللجلاج مع فضله لم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وابن عائش لا تصح له صحبة.» [ترقيم الرساله 1933] [ترقيم الشركة 1918]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطرابه كما هو مبيَّن مفصَّل في تعليقنا على "مسند أحمد" (3484) و (16621)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1934
أخبرَناهُ أبو حفص عُمر بن محمد الفقيه بِبُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا محمد بن سعيد بن سُويد القرشي بالكوفة، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبيه، عن معاذ بن جبل قال: أبطأ عنا رسولُ الله ﷺ صلاةَ الفجر، حتى كادتْ أن تُدرِكَنا الشمسُ، ثم خرج فصلَّى بنا فخفَّف في صلاتِه، ثم انصرفَ فأقبلَ علينا بوجهِه، فقال:"على مَكانِكم أُخبِرْكم ما بَطّأني عنكم اليومَ في هذه الصلاةِ، إني صلَّيتُ في ليلَتي هذه ما شاءَ اللهُ، ثم مَلَكتْني عيني فنِمتُ، فرأيتُ ربّي ﵎، فألهَمَني أنْ قلتُ: اللهمَّ إني أسألُك الطيّباتِ، وتَرْك المُنكراتِ، وحبَّ المَساكينِ، وأن تتوبَ علَيَّ، وتَغفرَ لي وتَرحَمَني، وإذا أردتَ في خَلْقِك فتنةً، فنجِّني إليك منها غيرَ مفتونٍ، اللهمَّ وأسألُك حبَّك وحبَّ من يُحبُّك، وحبَّ عمل يقرِّبُني إلى حُبِّك"، ثم أقبل إلينا ﷺ، فقال:"تعلَّمُوهنَّ وادرُسُوهنَّ، فإنهن حَقٌّ" (1) .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھانے میں اتنی دیر کر دی کہ قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی اور اس میں اختصار فرمایا، سلام پھیرنے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ آج مجھے نماز میں تاخیر کیوں ہوئی، میں نے اس رات حسبِ منشا نماز پڑھی پھر میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا، میں نے اپنے رب عزوجل کا دیدار کیا، اللہ نے میرے دل میں یہ کلمات ڈالے کہ میں کہوں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ، وَتَرْك المُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ المَسَاكِينِ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ، وَتَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِي خَلْقِكَ فِتْنَةً، فَنَجِّنِي إِلَيْكَ مِنْهَا غَيْرَ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ» اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ نیکیوں، منکرات کے ترک اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں، اور یہ کہ تو میری توبہ قبول کر، مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو اپنی مخلوق میں کوئی فتنہ برپا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا کیے بغیر اپنے پاس بلا لے، اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت، اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہو اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: انہیں سیکھو اور ان کا درس دیا کرو کیونکہ یہ سراسر برحق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1934]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرَّة، سعيد بن سويد مجهول تفرد بالرواية عنه ابنه محمد، ومحمد هذا - وإن روى عنه غير واحدٍ - لا يعرف بجرح ولا تعديل، فهو مستور الحال، وذكره ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 7/ 266 وسكت عنه، وعبد الرحمن بن أبي إسحاق - وهو أبو شيبة الواسطي ...» [ترقيم الرساله 1934] [ترقيم الشركة 1919]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرَّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں