🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. دُعَاءُ رَدِّ الْبَصَرِ وَقَبُولُهُ مَعًا
نگاہ لوٹانے اور قبولیت کی مشترک دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1950
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِيّ، حدثنا عَوْن بن عُمَارة الغُبَري (2) ، حدثنا رَوح بن القاسم، عن أبي جعفر الخَطْميّ، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف، عن عمِّه عثمان بن حنيف: أنه أتى النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، علِّمني دعاءً أدعو به يَردُّ اللهُ علَيَّ بَصَري، فقال له:"قُل: اللهمَّ إني أسألُك وأتوجَّه إليك بنبيِّك نَبيِّ الرحمةِ، يا محمدُ، إني قد تَوجَّهتُ بك إلى ربّي، اللهمَّ شفِّعْه فيَّ، وشفِّعني في نفسي"، فدعا بهذا الدعاء، فقام وقد أبصَرَ (3) . تابعه شَبيب بن سعيد (1) الحَبَطي عن رَوح بن القاسم بزيادات في المتن والإسناد، والقولُ فيه قولُ شَبيب، فإنه ثقةٌ مأمونٌ:
سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا شخص، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا بتائیے جو کہ میں مانگوں تو اللہ میری بینائی لوٹا دے۔ آپ نے اُسے فرمایا: یوں دعا مانگا کرو: اللّٰھمّ اِنّی اسألک، واتوجّہ الیک بنبیّک نبیِّ الرَّحمۃ، یا محمد انّی قد توجّھت بک الٰی ربّی، اللّٰھمّ شفِّعْہ فیَّ، وشفّعْنی فی نفسی۔ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، تیرے نبی رحمت کے واسطے سے، تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! میں آپ کے واسطے سے اپنے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں۔ اے اللہ! میرے حق میں ان کی اور میرے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ (عثمان بن حنیف) کہتے ہیں: وہ یہ دعا مانگ کر کھڑے ہوئے تو اس کی بینائی واپس آ گئی تھی۔ ٭٭ روح بن قاسم رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کرنے میں شیب بن سعید حبطی نے عون بن عمارہ بصری کی متابعت کی ہے اور ان کی سند میں اور متن میں کچھ اضافہ جات ہیں اور اس سلسلہ میں شبیب کا قول معتبر ہے کیونکہ وہ ثقہ ہیں، مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1950]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1951
أخبرَناهُ أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن بن سهل الدَّبّاس بمكة من أصل كتابه، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدثنا أحمد بن شَبيب بن سَعيد الحَبَطي، حدثني أبي، عن رَوح بن القاسم، عن أبي جعفر المَديني - وهو الخَطْمي - عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف، عن عمِّه عُثمان بن حُنيف، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ وجاءه رجلٌ ضَريرٌ، فشكا إليه ذهابَ بصَرِه، فقال: يا رسول الله، ليس لي قائدٌ وقد شَقَّ عليَّ، فقال رسولُ الله ﷺ:"ائتِ المِيضأةَ فتوضَّأْ، ثم صلِّ ركعتَين، ثم قل: اللهمَّ إني أسألُك وأتوجّه إليك بنبيِّك محمدٍ ﷺ نبيِّ الرَّحمة يا محمدُ، إني أتوجّه بك إلى ربّك، فيُجَلّي لي عن بَصَري، اللهمَّ شَفِّعْه فيَّ، وشَفِّعني في نفسي". قال عثمانُ: فواللهِ ما تفرّقنا ولا طالَ بنا الحديثُ، حتى دخل الرجلُ وكأنه لم يكن به ضُرٌّ قَطُّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وإنما قدّمتُ حديثَ عَوْن بن عُمارة، لأنَّ مِن رَسْمنا أن تُقدِّم العاليَ من الأسانيد.
سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک نابینا شخص آیا اور اپنی نابینائی کی شکایت کی۔ اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلنے والا کوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے میں شدید مشقت میں مبتلا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر کے دو رکعت نوافل ادا کرو پھر یوں دعا مانگو اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے تیری بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں۔ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں، میری آنکھوں کو روشن کر دیں۔ اے اللہ! میرے بارے میں اُن کی اور میری سفارش قبول فرما۔ عثمان کہتے ہیں: ابھی ہم وہاں سے اُٹھ کر نہیں گئے تھے اور ہماری گفتگو کوئی زیادہ طویل نہیں ہوئی تھی کہ وہ آدمی (نماز پڑھ کر دعا وغیرہ مانگ کر) آ گیا (اور ایسا صحت یاب ہو چکا تھا یوں لگتا تھا کہ) اس کو کبھی آنکھوں کا عارضہ لاحق ہی نہیں تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور میں نے عون بن عمارہ کی روایت پہلے اس لیے نقل کی ہے کہ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم ان احادیث کو ترجیح دیتے ہیں جن میں ہماری سند عالی ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1951]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں