🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. دعاء رد البصر وقبوله معا
نگاہ لوٹانے اور قبولیت کی مشترک دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1951
أخبرَناهُ أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن بن سهل الدَّبّاس بمكة من أصل كتابه، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدثنا أحمد بن شَبيب بن سَعيد الحَبَطي، حدثني أبي، عن رَوح بن القاسم، عن أبي جعفر المَديني - وهو الخَطْمي - عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف، عن عمِّه عُثمان بن حُنيف، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ وجاءه رجلٌ ضَريرٌ، فشكا إليه ذهابَ بصَرِه، فقال: يا رسول الله، ليس لي قائدٌ وقد شَقَّ عليَّ، فقال رسولُ الله ﷺ:"ائتِ المِيضأةَ فتوضَّأْ، ثم صلِّ ركعتَين، ثم قل: اللهمَّ إني أسألُك وأتوجّه إليك بنبيِّك محمدٍ ﷺ نبيِّ الرَّحمة يا محمدُ، إني أتوجّه بك إلى ربّك، فيُجَلّي لي عن بَصَري، اللهمَّ شَفِّعْه فيَّ، وشَفِّعني في نفسي". قال عثمانُ: فواللهِ ما تفرّقنا ولا طالَ بنا الحديثُ، حتى دخل الرجلُ وكأنه لم يكن به ضُرٌّ قَطُّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وإنما قدّمتُ حديثَ عَوْن بن عُمارة، لأنَّ مِن رَسْمنا أن تُقدِّم العاليَ من الأسانيد.
سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک نابینا شخص آیا اور اپنی نابینائی کی شکایت کی۔ اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلنے والا کوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے میں شدید مشقت میں مبتلا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر کے دو رکعت نوافل ادا کرو پھر یوں دعا مانگو اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے تیری بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں۔ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں، میری آنکھوں کو روشن کر دیں۔ اے اللہ! میرے بارے میں اُن کی اور میری سفارش قبول فرما۔ عثمان کہتے ہیں: ابھی ہم وہاں سے اُٹھ کر نہیں گئے تھے اور ہماری گفتگو کوئی زیادہ طویل نہیں ہوئی تھی کہ وہ آدمی (نماز پڑھ کر دعا وغیرہ مانگ کر) آ گیا (اور ایسا صحت یاب ہو چکا تھا یوں لگتا تھا کہ) اس کو کبھی آنکھوں کا عارضہ لاحق ہی نہیں تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور میں نے عون بن عمارہ کی روایت پہلے اس لیے نقل کی ہے کہ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم ان احادیث کو ترجیح دیتے ہیں جن میں ہماری سند عالی ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1951]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1951 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل أحمد بن شبيب وأبيه، وقد اختُلف في تعيين التابعيّ كما تقدَّم بيانه برقم (1194)، وذكرنا هناك أنه اختلاف لا يضرُّ مثلُه، والله أعلم. أبو جعفر المديني الخَطْمي: هو عُمير بن يزيد الأنصاري.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور یہ سند "جید" (عمدہ) ہے کیونکہ احمد بن شبیب اور ان کے والد ثقہ ہیں۔
وأخرجه النسائي (10421) من طريق هشام الدَّستُوائي، عن أبي جعفر الخطمي، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے ہشام الدستوائی کے طریق سے ابوجعفر الخطمی سے روایت کیا ہے۔
وتقدَّم قبله من طريق عون بن عمارة عن روح بن القاسم.
🔍 ہدایت: یہ روایت پہلے عون بن عمارہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وبرقم (1194) و (1930) من طريق شعبة بن الحجاج، عن أبي جعفر الخَطْمي، عن عمارة بن خزيمة بن ثابت، عن عثمان بن حُنيف. فذكر عمارة بن خزيمة بدل أبي أمامة، وكلاهما ثقة.
🧩 متابعات و شواہد: یہ روایت پہلے رقم (1194) اور (1930) پر شعبہ کے طریق سے بھی گزر چکی ہے، جہاں "ابوامامہ" کی جگہ "عمارہ بن خزیمہ" کا ذکر ہے اور دونوں ثقہ ہیں۔