المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
79. الدُّعَاءُ الْجَامِعُ الَّذِي يُخْتَمُ بِهِ الْمَجْلِسُ
وہ جامع دعا جس سے مجلس کا اختتام کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1955
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا أبو صالح كاتبُ الليث بن سعد، حدثني الليث بن سعد، أنَّ خالد بن أبي عِمران حدَّث عن نافع، عن ابن عمر: أنه لم يكن يجلسُ مَجلسًا، كان عنده أحدٌ أو لم يكن، إلَّا قال: اللهمَّ اغفِرْ لي ما قدّمتُ وما أخّرتُ، وما أسرَرتُ وما أعلَنتُ، وما أنت أعلمُ به منِّي، اللهمَّ ارزُقني من طاعتِك ما تَحُول بيني وبين مَعصيتِك، وارزُقْني من خَشيتِك ما تُبلِّغُني به رحمتَك، وارزُقْني من اليقين ما تُهوِّنُ به عليَّ مصائبَ الدنيا، وباركْ لي في سَمْعي وبَصَري، واجعلهُما الوارثَ مني، اللهمَّ اجعَلْ ثَأْري (2) ممَّن ظَلَمني، وانصُرْني على من عاداني، ولا تجعل الدنيا أكبرَ هَمِّي، ولا مَبلَغَ عِلمي، اللهمَّ ولا تُسلِّطْ عليَّ مَن لا يَرحمُني. فسُئِلَ عنهنَّ ابنُ عمر، فقال: كان رسولُ الله ﷺ يَختِمُ بهنّ مَجلِسَه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا نافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کوئی بھی مجلس ہو اس میں خواہ ایک ہی آدمی ہو تو آپ مجلس میں یہ دعا ضرور مانگا کرتے تھے: ” اللّٰھمّ اغفرلی ما قدّمت وما اخرت، وما اسررت وما اعلنت، وما انت اعلم بہ منی، اللّھمّ ارزقنی من طاعتک ماتحول بینی وبین معصیتک، وارزقنی من خشیتک ما تبلغنی بہ رحمتک، وارزقنی من الیقین ما تھون بہ علی مصائب الدنیا، وبارک لی فی سمعی وبصری، واجعلھما الوارث منّی، وخذ بثأری ممن ظلمنی، وانصرنی علی من عادانی، ولا تجعل الدنیا اکبر ھمی، ولا مبلغ علمی، اللّٰھمّ ولا تسلط علی من لا یرحمنی۔ ” اے اللہ! میرے اگلے پچھلے ظاہر، باطن، گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! تو میرے گناہوں کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ! مجھے اپنا اطاعت گزار بنا اور (اس اطاعت کو) میرے اور تیری معصیت کے درمیان حائل کر دے۔ اور مجھے اپنی ذات کا ایسا خوف عطا فرما جس سے تیری رحمت کا نزول ہو اور مجھے ایسا یقین عطا کر دے جو دنیا کے مصائب میں مجھے قلبی سکون عطا کرے۔ اور میری سماعت و بصارت میں برکت عطا فرما۔ اور ان دونوں کو میرا وارث بنا۔ اے اللہ! میرا بدلہ تو اس سے لے جو میرے اوپر ظلم کرے اور میرے دشمنوں کے خلاف میری مدد فرما اور دنیا کو میرا بڑا مقصد نہ بنا اور نہ ہی دنیا کو میرے لیے انتہاء بنا۔ میرے اوپر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ فرما جو مجھ پر رحم نہ کرے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کلمات کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مجلس اسی دعا کے ساتھ ختم کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1955]