🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب فِي الْمَرْأَةِ تَحُجُّ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ
باب: عورت کا محرم کے بغیر حج کرنا جائز نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1723]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان خاتون کو اپنے کسی محرم کی معیت کے بغیر ایک رات کا سفر بھی حلال نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 74 (1339)، (تحفة الأشراف: 13035، 14316)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 4 (1088)، سنن الترمذی/الرضاع 15 (1669)، سنن ابن ماجہ/المناسک 7 (2899)، موطا امام مالک/الاستئذان 14(37)، مسند احمد (2/236، 340، 347، 423، 437، 445، 493) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں ایک رات کی قید اتفاقی ہے، مقصد یہ نہیں کہ اس سے کم کا سفر غیر محرم کے ساتھ جائز ہے، محرم شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہو، مثلاً باپ، دادا، نانا، بیٹا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا، بھانجا، داماد وغیرہ وغیرہ، یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1339)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَالنُّفَيْلِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِيهِ، ثُمَّ اتَّفَقُوا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ يَوْمًا وَلَيْلَةً"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَذْكُرْ الْقَعْنَبِيُّ وَ النُّفَيْلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، وَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكٍ، كَمَا قَالَ الْقَعْنَبِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کرے۔ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر گزری۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1724]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے حلال نہیں کہ ایک دن اور رات کا سفر کرے۔ اور مذکورہ بالا کے ہم معنی بیان کیا (یعنی اس کا محرم کے بغیر سفر کرنا حرام ہے)۔ نفیلی نے «عَنْ مَالِكٍ» کی بجائے تحدیث کی صراحت کرتے ہوئے «حَدَّثَنَا مَالِكٌ» کہا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نفیلی اور قعنبی نے (سند میں سعید بن ابی سعید کے بعد) «عَنْ أَبِيهِ» نہیں کہا۔ نیز ابن وہب اور عثمان بن عمر بھی جناب مالک سے ایسے ہی روایت کرتے ہیں جیسے کہ قعنبی نے کہا ہے ( «عَنْ أَبِيهِ» کے بغیر)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12960، 13010، 14317)، انظر حدیث رقم (1723) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح فذكر معناه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1339)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" بَرِيدًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی البتہ اس میں (دن رات کی مسافت کے بجائے) «بريدا» کہا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1725]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا، مگر «بَرِيدًا» کا لفظ کہا۔ (یعنی کسی مسلمان عورت کو اپنے محرم کے بغیر ایک برید کا سفر بھی حلال نہیں[سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظرحدیث رقم: (1723)، (تحفة الأشراف: 12960) (شاذ)» ‏‏‏‏ (جریر نے «یوم» یا «لیلة» کی جگہ «برید» کی روایت کی ہے جو جماعت کی روایت کے مخالف ہے)
وضاحت: ۱؎: «برید» : چار فرسخ کا ہوتا ہے، اور ایک فرسخ تین میل کا، اس طرح «برید» بارہ میل کا ہوا۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
صححه ابن خزيمة (2527 وسنده صحيح، 2526) وانظر الحديث السابق (1724)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1726
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعًا حَدَّثَاهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ زَوْجُهَا أَوِ ابْنُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ تین یا اس سے زیادہ دنوں کی مسافت کا سفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1726]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورت جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ اپنے باپ، بھائی، خاوند، بیٹے یا کسی محرم کی معیت کے بغیر تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 74 (1340)، سنن الترمذی/الرضاع 15 (1169)، سنن ابن ماجہ/المناسک 7 (2898)، (تحفة الأشراف: 4004)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مسجد مکة والمدینة 6 (1197)، وجزاء الصید 26 (1864)، والصوم 67 (1995)، مسند احمد (3/54)، سنن الدارمی/الاستئذان 46 (2720) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جیسے: نانا، دادا، چچا، ماموں، بھتیجا، اور بھانجا وغیرہ جو سب کے سب سگے ہوں، یا رضاعی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1340)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1727
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1727]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنے محرم کے بغیر تین دن کا (بھی) سفر نہ کرے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 4 (1086)، صحیح مسلم/الحج 74 (1338)، (تحفة الأشراف: 8147) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1087) صحيح مسلم (1338)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1728
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُرْدِفُ مَوْلَاةً لَهُ، يُقَالُ لَهَا: صَفِيَّةُ، تُسَافِرُ مَعَهُ إِلَى مَكَّةَ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی لونڈی کو جسے صفیہ کہا جاتا تھا اپنے ساتھ سواری پر بیٹھا کر مکہ لے جاتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1728]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی لونڈی کو اپنے ساتھ بٹھا کر لے جاتے تھے۔ اس کا نام صفیہ تھا۔ وہ ان کے ساتھ مکہ کا سفر کرتی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه البيھقي (5/226) سفيان الثوري تابعه عقبة بن خالد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں